Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 265

By Maulana Wahiduddin Khan

فرض قرار دیا ہے: عَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2165)، اور یہ کہ امیر کی بیعت نہ کرنے والا جاہلیت (کفر) کی موت مرتا ہے۔ لہذا ہر مسلم کو جماعت المسلمین کے امیر کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہیے: وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1851)۔ لہذا حکم رسول کے بموجب، جماعت المسلمین کے علاوہ تمام فرقوں سے دینی معاملات میں علیحدگی اختیار کرنی چاہیے۔ تاکہ ہر مسلم کی موت اسلام پر ہو، نہ کہ فرقہ وارانہ مذاہب پر۔ مزید براں کہ جماعت المسلمین کے افراد اپنی جماعت کے علاوہ کسی مسلمان کو مسلم نہیں سمجھتی اور تمام دینی امور مثلاً صلوٰۃ، نمازِ جنازہ، شادی بیاہ اور رویت ہلال وغیرہ میں امت سے الگ رہتی ہے۔ براہِ کرم آپ کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت کریں کہ آیا اس قسم کا عقیدہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے یا یہ عقیدہ غلو میں داخل ہے جس سے قرآن (171:4) نے سختی سے روکا ہے (لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ)۔ عبد اللطیف، کراچی۔ جواب مجھ کو قرآن وحدیث کا جو علم ہے اس کی روشنی میں، میں کہوں گا کہ یہ خود سب سے بڑا گناہ ہے کہ کچھ لوگ بطور خود ایک جماعت بنائیں اور اس کا نام ”الجماعت“ رکھ کر یہ کہیں کہ یہی وہ ”الجماعت“ ہے جس کا ذکر حدیثِ رسول میں آیا ہے۔ جو شخص ہماری جماعت میں شامل ہو وہ حق پر ہے اور جو اس میں شامل نہ ہو وہ باطل پر ہے۔ اس قسم کا فعل جماعت بندی یا فرقہ بندی ہے، اور یہی وہ تفرقہ ہے جس سے قرآن وحدیث میں منع کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف حدیثوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ لوگ ہمیشہ اُمت کے مجموعے سے جڑے رہیں، وہ امت کے مجموعے کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم نہ کریں۔ میرے نزدیک امت سے وابستہ رہنے کی تاکید جو حدیث میں کی گئی ہے وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page