Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 266

By Maulana Wahiduddin Khan

دینیوی اتحاد کے اعتبار سے ہے۔ دنیا میں مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بحیثیت امت کمزور نہ ہو جائیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہیں۔ اختلاف کی حالت میں اُس کے اوپر کوئی دینی فتویٰ نہ لگائیں بلکہ اجتماعیت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے معاملے کو خدا کے اوپر ڈال دیں۔ اسی لیے علما نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ لا نُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ (الكبائر للذہبی، صفحہ 156)۔ یعنی جو شخص قبلے کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرے اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ جہاں تک اُس ”الجماعت“ کی بات ہے جو آخرت میں جہنم سے محفوظ رہے گی اور جنت میں جگہ پائے گی، اُس کا تعلق کسی خود ساختہ جماعت یا فرقے سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ایک ایسے گروہ افراد سے ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ”الجماعت“ قرار پائے۔ مذکورہ حدیث میں جس ”الجماعت“ کا ذکر ہے اس سے مراد معروف معنوں میں کوئی تنظیم نہیں ہے۔ کسی خود ساختہ جماعت کو ”الجماعت“ کہنا اپنے آپ کو اس خطرے میں ڈالنا ہے کہ ایسے لوگ کبھی ”الجماعت“ (فرقہ ناجیہ) میں شامل نہ کیے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں الجماعت سے مراد متفرق افراد کا گروہ ہے، نہ کہ کوئی منظم جماعت، جو صدر اور سکریٹری کے تحت وجود میں آتی ہے۔ اس مطلوب الجماعت کی پہچان یہ ہے کہ وہ اس حدیث رسول : مَنْ كَانَ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ، وَأَصْحَابِي (المجم الكبير للطبرانی، جلد 8، صفحہ 152) کا مصداق ہو۔ یعنی، وہ اس راستہ پر رہے جس میں ہوں اور میرے اصحاب ہیں۔ یعنی وہ پوری سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ رسول اور اصحاب رسول کو اپنا اُسوہ بنائے۔ وہ ہر معاملے میں یہ دیکھے کہ دورِ اول میں جب اس قسم کی صورت حال پیدا ہوئی تو رسول اور اصحاب رسول نے اُس موقع پر کس قسم کی روش اختیار کی اور پھر رسول اور اصحاب رسول کے یہاں جو روش ملے اُس کو کسی تاویل کے بغیر اختیار کر لے۔ آپ نے اپنے خط میں جس جماعت کا ذکر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page