Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 267

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا ہے وہ بلا شبہ اُس برائی کا شکار ہے جس کو قرآن اور حدیث میں غُلُو کہا گیا ہے۔ جب آپ کسی کو ایسی حالت میں دیکھیں جو آپ کے نزدیک برائی ہے تو آپ کو صرف یہ حق ہے کہ پوری خیر خواہی اور دل سوزی کے ساتھ اس کو نصیحت کریں، اور اپنی تنہائیوں میں اس کے لیے رو کر دعا کریں۔ ضروری دلائل کے ساتھ اس کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں تاکہ وہ اپنی بری روش کو چھوڑ دے۔ اس قسم کی پر امن اور خیر خواہانہ نصیحت کا حق ہر شخص کو ہے۔ لیکن جب کوئی شخص نصیحت سے آگے بڑھ کر یہ کرے کہ وہ برائی کرنے والے پر حکم لگانے لگے، وہ برائی کرنے والے کا بائیکاٹ کرے، وہ برائی کرنے والے کے خلاف تشدد کو جائز سمجھے تو یہ دوسری صورت غلو کی صورت ہوگی اور غلو بلا شبہ اسلام میں جائز نہیں۔ سوال نصاب زکوٰۃ کے تعلق سے قرآن وحدیث کی روشنی میں علما کرام و ائمہ دین کے فتوٰی سے مندرجہ ذیل سوال کی عامۃ المسلمین کی ہدایت و رہنمائی کے لیے تصریح فرما کر مشکور فرمائیں: 1۔ نصاب زکوٰۃ کا تعیین 7.5 تولہ سونا یا 52.5 تولہ چاندی یا ان کی مالیت کے بققدر کیش (cash) سے کیا جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ گذشتہ زمانے میں 7.5 تولہ سونا کی قیمت 52.5 تولہ چاندی کے مساوی رہی ہو، لیکن فی زمانہ ان دھاتوں کی قیمت میں تقریباً 1:5 کا تناسب ہے۔ یعنی 7.5 تولہ سونا کی قیمت 1,57,500= 21,000 x 7.5 روپے اور 52.5 تولہ چاندی کی قیمت 31,500= 52.5X600 روپے اب تک علما کرام 52.5 چاندی یا اس کی قیمت کو ہی نصاب زکوٰۃ مقرر کرتے رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page