حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
جائے۔ اختلاف کو ڈسکسشن کا موضوع بنایا جائے۔ ایسا کرنے سے اختلاف لوگوں کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ بن جائے گا۔ اس سے لوگوں کی تخلیقیت (creativity) میں اضافہ ہوگا۔ درست طور پر کہا جاتا ہے کہ جہاں لوگ ایک ہی انداز میں سوچیں، وہاں لوگوں کے اندر بلند فکری نہیں ہوگی: Where everyone thinks alike, no one thinks very much رائے کا اختلاف ہر زمانے میں امت کے اندر موجود رہا ہے۔ رائے کا اختلاف اس وقت مسئلہ بنتا ہے جب کہ کوئی گروہ اختلاف میں غلو کا طریقہ اختیار کرے۔ غلو کے بغیر اختلاف ایک رحمت ہے۔ جب کہ غلو کے ساتھ اختلاف ایک فتنہ بن جاتا ہے۔ مثلاً امت میں ہمیشہ عقائد کے معاملے میں اختلاف پایا جاتا رہا، اسی طرح فقہی مسائل میں بھی ہمیشہ اختلاف موجود رہا ہے۔ یہ اختلاف کبھی مسئلہ نہیں بنا۔ البتہ بعض اوقات جب کسی گروہ نے اختلاف کو غلو کے درجے تک پہنچایا تو اختلاف مسئلہ بن گیا۔ اختلاف کو بینچ کرنا قدیم زمانہ ٹرائبل ایج کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں ایسا تھا کہ اختلاف بہت جلد ٹکراؤ بن جاتا تھا، اور ٹکراؤ بہت جلد لڑائی کی صورت اختیار کرلیتا تھا۔ ٹرائبل ایج (قبائلی دور) میں لوگ مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک ہی طریقہ جانتے تھے۔ وہ تھا ٹکراؤ کا طریقہ۔ لیکن ٹکراؤ کا طریقہ مسائل کو حل نہیں کرتا تھا، بلکہ ہر ٹکراؤ کے بعد ایک اور ٹکراؤ وجود میں آتا تھا۔ یعنی ایکشن کے بعد ری ایکشن۔ اس کو ایک لفظ میں چین ری ایکشن کہا جاسکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں موجودہ زمانے میں ایک اور طریقہ وجود میں آیا ہے۔ اس کو ایک لفظ میں ”مسائل کو بینچ کرنا“ کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ آزادی رائے کا زمانہ ہے۔ آپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader