Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 273

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاں تک سماجی امن کا تعلق ہے، اس کا ہندونظریہ سے کوئی تعلق نہیں۔ محض کسی لفظ کے ادل بدل سے سماجی جھگڑے کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ مہاتما گاندھی ( وفات 1948) اور گوڈسے (وفات 1949)، دونوں اپنے کو ہندو کہتے تھے، اس کے باوجود گوڈسے نے گاندھی کو مار ڈالا۔ بہار کے اونچی ذات کے ہندو اور نیچی ذات کے ہندو دونوں اپنے کو ہندو کہتے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس قسم کے کلچرل اختلاف کو مٹانے کے بجائے اس معاملہ میں ہر ایک کو آزادی دے دی جائے۔ گرو گولوالکر نے درست طور پر کہا تھا کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے: Nature abhors uniformity. اور جب خود فطرت ہی میں فرق اور تنوع موجود ہے تو اس کو مٹانا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سماجی امن کا راز کلچرل یکسانیت میں نہیں ہے بلکہ کلچرل تنوع کو تسلیم کرنے میں ہے۔ اس مسئلہ کے حل کا درست اور قابل عمل فارمولا صرف یہ ہے ـــ ایک کی پیروی اور سب کا احترام: Follow one and respect all. سوال مختلف مذہبوں اور تہذیبوں کے سماج میں ہم آہنگی کیسے لائی جائے؟ جواب مختلف مذہبوں اور تہذیبوں کے سماج میں ہم آہنگی کیسے لائی جائے۔ اس کا ایک فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس قسم کے اختلافات کو بلڈوزر کر کے پورے سماج کو ایک مذہب اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page