حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی بھی شخص سے کسی بھی مسئلے پر تبادلۂ خیال کر سکتے ہیں۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا ہے کہ آپ سامنے والے فریق کی سنیں، اور سامنے والا فریق آپ کی سنے۔ اس طرح وہ دور ختم ہو گیا، جب کہ اختلاف بہت جلد ٹکراؤ بن جاتا تھا۔ یہ طریقہ سب سے پہلے پیغمبر اسلام ﷺ نے اختیار کیا۔ آپ جب تشریف لائے تو دنیا میں ٹرائبل ایج تھا۔ ٹرائبل ایج میں ہمیشہ اختلافات پیش آتے ہیں۔ رسول اللہ نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ اختلاف کو ٹکراؤ تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ بلکہ اس کو پنچ کر کے حل کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے زمانے میں فریق ثانی نے بار بار ٹکراؤ کرنا چاہا، لیکن آپ نے ہمیشہ ٹکراؤ کو پنچ کر کے اس کو بڑھنے نہیں دیا۔ ہجرت مدینہ اور صلح حدیبیہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اختلاف کو ٹکراؤ کی طرف لے جانا یہ ہے کہ اس میں مسلز پاور (muscle power) کو استعمال کیا جائے۔ اختلاف کو پنچ کرنا یہ ہے کہ دونوں فریق ڈائیلاگ کے ذریعے اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اختلاف کو ختم کرنا یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو گفتگو کے ذریعہ مخاطب بنائیں ۔ اپنے اختلاف کو ذہن کی سطح پر ختم کرنے کی کوشش کریں ۔ اس دنیا میں اختلاف کبھی ختم نہیں ہوتے، اختلاف کو پنچ کرنا سیکھیے۔ ثالثی کا اُصول خاندانی زندگی میں نزاعات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے حل کا ایک فطری اصول قرآن میں بتایا گیا ہے۔ قرآن کا یہ اصول اس آیت میں ملتا ہے: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا (35)۔ یعنی، اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان تعلقات بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مرد کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader