ثالثی کا اُصول
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
رشتہ داروں میں سے کھڑا کرو اور ایک حکم عورت کے رشتہ داروں میں سے کھڑا کرو۔ اگر دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافق کر دے گا۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبر دار ہے۔ حکم (ثالثی) کا یہ اصول نزاعات کے حل کے لیے بے حد مفید ہے۔ دو آدمیوں میں جب باہمی اختلاف ہو تو دونوں کا ذہن ایک دوسرے کے بارے میں متاثر ذہن بن جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں خالص واقعاتی انداز سے سوچ نہیں پاتے۔ ایسی حالت میں معاملہ کو طے کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ دونوں اپنے سوا کسی دوسرے کو حکم (arbiter) بنانے پر راضی ہو جائیں۔ دوسرا شخص معاملہ سے ذاتی طور پر وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے گا اور ایسے فیصلہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گا جو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ہو۔ خالق نے اپنے تخلیقی منصوبہ کے مطابق ، ہر دو انسان کے درمیان فرق رکھا ہے۔ اس مسئلہ کا حل فرق کو مٹانا نہیں ہے بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ انسان اس ہنر کو جانے جس کو آرٹ آف ڈیفرنس مینجمنٹ (art of difference management) کہا جا سکتا ہے۔ ڈیفرنس کو مٹانے کی کوشش نہ کیجیے بلکہ ڈیفرنس کے ساتھ جینا سیکھیے اور پھر آپ کی زندگی کامیاب ازدواجی زندگی بن جائے گی۔ خاندانی زندگی ہو یا سماجی زندگی ، دونوں میں اختلافات پیدا ہونا فطری ہے۔ اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے ۔ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader