اختلاف کو حل کرنے کی تدبیر
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ فطرت کا ایک لازمی جز، ہے اس لیے اختلاف کبھی زندگی سے ختم نہیں ہوتا۔ امت کے اصحابِ علم و معرفت کو چاہیے کہ وہ اس راز کو سمجھیں اور اختلاف کو مٹانے کی کوشش کرنے کے بجائے اختلاف کے ساتھ جینے کا طریقہ اختیار کریں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ ڈیفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس مسئلہ کو حل کریں۔ اس طرح سنت کی پیروی کی صورت میں اختلافِ امت محمدی کے لیے رحمت بن جائے گا۔ اختلاف کے ہوتے ہوئے وہ ترقی کا پرامن سفر کامیابی کے ساتھ طے کر سکیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دوسری بہت سی سنتیں ہیں اسی طرح وہ چیز بھی ایک سنت رسول ہے جس کو ہم نے آرٹ آف ڈیفرنس مینجمنٹ کا نام دیا ہے۔ اس اصول کا تعلق اسلام کے تمام پہلوؤں سے ہے، کوئی بھی پہلو اس سے خالی نہیں۔ مثال کے طور پر فقہی اختلافات جو ہزار سال سے اب تک ٹکراؤ کا سبب بنے ہوئے ہیں ان کے معاملہ میں ڈیفرنس مینجمنٹ کا سادہ اصول یہ ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ یہ اختلافات توسع پر مبنی ہیں، نہ کہ تعدد پر۔ ان میں سے جس طریقہ کی بھی پیروی کی جائے وہ درست ہوگا (بِأَيِّهِمْ اِقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمُ) جامع بيان العلم لابن عبد البر، حدیث نمبر 1760۔ اسی طرح حضرت علی اور حضرت معاویہ کا معاملہ یا یہ سوال کہ چاروں خلفاء کے درمیان تفضیل کی بحث۔ اس قسم کے معاملات میں ڈیفرنس مینجمنٹ کے اصول کا انطباق (application) یہ ہے کہ اس کو خدا کے حوالہ کر دیا جائے اور ہر فرقہ اپنی آج کی تعمیری ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں مشغول ہو جائے۔ موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم ملکوں میں سیکولر حکمرانوں اور اسلام پسند جماعتوں کے درمیان تباہ کن ٹکراؤ جاری ہے۔ اس معاملہ میں ڈیفرنس مینجمنٹ کا انطباق یہ ہے کہ اسلام پسند جماعتیں حکومت کے دائرہ میں براہ راست مداخلت کا طریقہ چھوڑ دیں۔ وہ غیر حکومتی دائرہ،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader