اختلاف کو حل کرنے کی تدبیر
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
مثلاً تعلیم اور حکیمانہ طور پر سماجی اصلاح کے شعبوں میں اپنی کوششیں صرف کریں۔ موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان لیڈر یا مسلم گروہ مختلف ملکوں میں کسی نہ کسی قومی یا ملی مقصد کے حوالہ سے غیر مسلم حکومتوں سے متشددانہ ٹکراؤ کا سلسلہ جاری کیے ہوئے ہیں۔ مثلاً فلسطین اور کشمیر اور چچنیا اور فلپائن، وغیرہ میں۔ ان مقامات پر ڈیفرنس مینجمنٹ کے اصول کا انطبا ق یہ ہے کہ ہر قسم کے تشدد کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے اور صرف مسلّمہ پر امن طریق کار کی پابندی کرتے ہوئے اپنی تحریک چلائی جائے۔ قرآن کی آیت: اَلسُّلْحُ خَيْرُ (4:128) بتاتی ہے کہ ڈیفرنس مینجمنٹ کا مذکورہ طریقہ مطلق طور پر خیر کا سبب ہے۔ وہ ہر حال میں قابلِ عمل ہے۔ یہ طریقہ صرف اس وقت نا قابلِ عمل بن جاتا ہے جب کہ مسلمان تشدد کا آغاز کر کے فضا کو بگاڑ دیں۔ تشدد کا آغاز لازمی طور پر جوابی تشدد پیدا کرے گا اور پر امن طریق کار کو اختیار کرنا ممکن نہ رہے گا۔ اگر مسلمان یہ غلطی کریں کہ تشدد کا آغاز کر کے وہ صورتِ حال کو بگاڑ دیں تو خود انہیں کو دوبارہ صورت حال کو نارمل بنانے کی ذمہ داری لینی پڑے گی ۔ اور وہ ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے تشدد کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں تا کہ وہ موافق فضا پیدا ہو جس میں ڈیفرنس مینجمنٹ پر عمل کرنا ممکن ہو جائے۔ اسلام دین فطرت ہے۔ مذکورہ اصول فطرت ہی کا ایک اصول ہے جس کو اسلام میں اختیار کیا گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں لازماً ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات پیدا ہوں ۔ ایک اور دوسرے کے درمیان مختلف اعتبار سے اتنا زیادہ فرق پایا جاتا ہے کہ ہر انسان کو مسٹرڈ ڈیفرنس کہنا صحیح ہوگا۔ اس دنیا میں ہر سماج فرق واختلاف والا سماج ہے۔ یہ فرق واختلاف چونکہ خود فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے اس لیے اس کو ختم کرنا ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader