حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسی حالت میں قابل عمل صورت صرف یہ ہے کہ فرق کے ساتھ نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے، نہ کہ فرق کو مٹانے کا۔ It requires difference management rather than eliminating the difference. فطرت کے اس اصول کا تعلق مذہبی معاملہ سے بھی ہے اور سیکولر معاملہ سے بھی۔ اس دنیا میں کوئی بھی نظام مذہبی ہو یا غیر مذہبی، کامیاب طور پر وہی لوگ بنا سکتے ہیں جو ڈیفرنس مینجمنٹ کا آرٹ جانتے ہوں۔ فرق واختلاف کو مٹانا تشدد پیدا کرتا ہے اور فرق واختلاف کو بینچ کرنا امن اور ہم آہنگی کا سبب بنتا ہے۔ فرق واختلاف کوئی بُرائی نہیں، وہ ترقی کا زینہ ہے۔ فرق واختلاف سے اجتماعی زندگی میں چیلنج پیدا ہوتا ہے ۔ اور چیلنج کا سامنا کرناہی اس دنیا میں ہر قسم کی ترقی کا واحد راز ہے۔ آزادی کا دور ایک مرتبہ مغرب کے ایک سفر کے دوران میری ملاقات ایک مغربی اسকালر سے ہوئی ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ دنیا میں تہذیب کا دور جو آیا ہے، وہ کیسے آیا۔ اس نے کہا کہ فرانس میں جمہوریت کا دور آنے کے بعد اس انقلاب کے بعد پہلی بار یہ ہوا کہ اختلاف رائے (dissent) کو ایک ناقابل منسوخ حق کا درجہ مل گیا۔ جب ایسا ہوا تو دنیا میں آزادیِ فکر کا دور آ گیا۔ اس آزادیِ فکر سے تمام ترقیاں وجود میں آئیں۔ اس آزادیِ فکر سے لوگوں کو موقع ملا کہ وہ ہر شعبے میں آزادانہ طور پر تلاش و جستجو کریں، اس طرح علم کے بند دروازے کھل گئے، اور ہر قسم کی ترقیاں بلاروک ٹوک ہونے لگیں۔ ترقی ایک فکری عمل ہے۔ فکری عمل کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو آزادانہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader