حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
طور پر اپنا عمل کرنے کا موقع ملے۔ آزادی فکر کے بغیر علم کے تمام دروازے بند رہتے ہیں، جب کہ آزادی فکر کے ماحول میں علم کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں۔ قدیم زمانے میں لمبی مدت تک علم کو ترقی نہیں ہوئی۔ اس کا سبب یہی تھا کہ اہل علم کے لیے آزادانہ جستجو کے مواقع حاصل نہ تھے۔ جدید دور میں جب آزادانہ فکر کے مواقع کھلے تو ہر شخص مسابقت کی دوڑ میں مشغول ہو گیا۔ اس طرح تدریجی پر اسس کے تحت علم کی دنیا میں ترقیاں ممکن ہو گئیں۔ علمی ترقی دراصل انسان کے پوٹینشل (potential) کو بروئے کار لانے کا نام ہے، اور پوٹینشل کو بروئے کار لانے کا یہ معاملہ صرف آزادانہ ماحول میں ممکن ہوتا ہے۔ جہاں آزادی نہ ہو، وہاں علمی اور فکری ترقی بھی رک جائے گی۔ اس معاملے میں کسی کے خلاف جارحیت ایک ایسی چیز ہے، جس پر پابندی لگائی جائے۔ اس معاملے میں صحیح اصول یہ ہے کہ جب تک آپ پر امن انداز میں اپنا کام کر رہے ہیں، تو آپ کو کامل آزادی حاصل رہے گی، آپ کی آزادی پر پابندی صرف اس وقت لگ سکتی ہے، جب کہ آپ کسی دوسرے شخص کے خلاف جارحیت کا انداز اختیار کریں۔ مثلاً مارنا، پیٹنا، یا تشدد کرنا، وغیرہ۔ درست مشورہ مسٹر نرسیمہ راؤ (P. V. Narasimha Rao, 1921-2004) نے 15 اگست 1992 کو بحیثیت وزیر اعظم 46 ویں یوم آزادی کی اپنی تقریر میں ایک اہم بات کہی۔ اکثر اخباروں نے اس کو اپنی سرخیوں میں نمایاں کیا ہے۔ ہندوستان ٹائمز (16 اگست 1992) نے اس تقریر کی جو رپورٹ چھاپی اس کی سرخی یہ تھی ـ وزیر اعظم کی اپیل کہ نزاعی امور کو تین سال کے لیے التوا میں ڈال دیں: PM (calls) for three-year moratorium on contentious issues.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader