Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے کہا کہ ہمارے درمیان اختلافات ہیں اور یہ ایک فطری بات ہے کہ اختلافات ہوں ۔ مگر زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آزادی کے تقریباً آدھی صدی بعد بھی ہم گمبھیر مسائل سے گھیرے ہوئے ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے یکسوئی کی ضرورت ہے۔ ہم کو چاہیے کہ کم از کم اگلے تین سال کے لیے ہم اپنی نزاعی بحثوں کو طاق پر رکھ دیں اور اپنی ساری طاقت ملک کو ترقی کے راستہ پر اٹھانے میں لگا دیں۔ یہی اصول دنیا میں ترقی اور کامیابی کا واحد اصول ہے۔ موجودہ دنیا میں لازماً ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اور دوسرے شخص، اسی طرح ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان اختلاف اور نزاع پیدا ہو۔ اس دنیا میں بے اختلاف زندگی ممکن نہیں۔ اب اگر ہر شخص اور ہر گروہ اپنی اختلافی باتوں کو لے کر دوسروں سے الجھ جائے تو ترقی کا سفر نا ممکن ہو جائے گا۔ اس لیے درست طریقہ یہ ہے کہ اختلافی یا نزاعی باتوں کو اعراض کے خانہ میں ڈال دیا جائے اور اپنی ساری طاقت عملی تعمیر کے کام میں لگائی جائے ۔ اگر بالفرض مستقل اعراض ممکن نہ ہو تو کم از کم کچھ مدت کے لیے تو اعراض کے اصول کو اختیار کیے بغیر چارہ ہی نہیں۔ انسان بیک وقت دو محاذ پر اپنی قوت صرف نہیں کر سکتا ۔ اگر وہ نزاع میں الجھے گا تو تعمیری کام رک جائیں گے ۔ اور اگر تعمیری کاموں میں مصروف ہوگا تو نزاع کے میدان کو خالی چھوڑنا پڑے گا۔ ایسی حالت میں عقل مندی کیا ہے۔ عقل مندی یہ ہے کہ نزاع کو ترک یا ملتوی کر کے اپنی تمام ممکن قوت کو تعمیر و ترقی کی راہ میں لگا دیا جائے ۔ ایک مثال بون (Bonn) جرمنی کی انتہائی قدیم بستی ہے۔ جس کی تاریخ پہلی صدی قبل مسیح تک جاتی ہے۔ اس سے بہت سی تاریخیں وابستہ ہیں۔ مثلاً مسیحیت کے دو مذہبی ادارے اینگلیکن چرچ اور اولڈ چرچ کے درمیان زبردست اختلافات تھے جو تقریباً سو سال تک شدت کے ساتھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page