Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

جاری رہے۔ آخر کار دونوں کے درمیان گفت و شنید سے ایک معاہدہ ہوا۔ اس معاہدہ کا اعلان بون میں کیا گیا۔ اس لیے اس کو بون اعلان (Declaration of Bonn) کہا جاتا ہے۔ یہ اعلان 1931 میں کیا گیا۔ اس کے تحت دونوں نے ایک دوسرے کی آزاد حیثیت کو تسلیم کر لیا۔ جب اختلافات نظری اور اعتقادی سطح پر ختم نہ ہو رہے ہوں تو بہترین دانش مندی یہ ہے کہ نظری سطح پر اختلاف کو باقی رکھتے ہوئے عملی سطح پر اس کا خاتمہ کر دیا جائے۔ حکمت کی بات کانگریس کے (سابق) صدر نرسمہا راؤ کا ایک انٹرویو ٹائمز آف انڈیا (یکم جون 1991) میں چھپا ہے۔ انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستانی سماج مختلف قومیتوں کا مشترک سماج ہے، اور اس سماج کے ہر جزء کو آزادی اور برابری کے ساتھ رہنا چاہیے ۔ ہندوستان میں رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ مل جل کر رہا جائے: We have a plural society and all segments of the society should exist in freedom and equality. The only way to exist in India is to co-exist. یہ نہایت صحیح اور درست بات ہے۔ مگر اس کا تعلق صرف ہندوستانی سماج سے نہیں ہے، بلکہ دنیا کے ہر سماج سے ہے۔ یہی طریقہ پاکستان اور افغانستان کے لیے بھی صحیح ہے اور یہی طریقہ یورپ اور امریکہ کے لیے بھی۔ چاہے ایک خاندان کا معاملہ ہو یا پوری زمین کا معاملہ، اس دنیا میں زندہ رہنے کی یہی واحد صورت ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہوئے زندگی گزاری جائے۔ اگر برداشت اور رواداری (ٹالرنس) کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے تو اس زمین پر نہ ایک خاندان بن سکتا اور نہ ایک ملک۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page