حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں اختلاف کا موجود ہونا اتناہی فطری ہے جتنا خود انسان کا موجود ہونا۔ جہاں انسان ہوں گے وہاں اختلاف ہوگا، خواہ یہ انسان ایک مذہب اور کلچر کے ہوں یا کئی مذہب اور کلچر کے۔ ایسی حالت میں انسان کو دو میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہے۔ یا تو وہ اختلاف کو برداشت کرے یا اختلاف کو برداشت نہ کرکے دوسروں سے ہمیشہ لڑتا جھگڑتا رہے۔ ہمارے لیے انتخاب کا موقع اختلاف اور بے اختلاف میں نہیں ہے بلکہ اختلاف کو برداشت کرنے یا اختلاف کو برداشت نہ کرکے مرجانے میں ہے۔ اگر ہم زندگی چاہتے ہیں تو وہ صرف اختلاف کو برداشت کرنے ہی میں مل سکتی ہے۔ اس کے بعد دوسرا جو امکان ہے وہ لڑ کر اپنے کو برباد کر لینے کا ہے۔ اس کے سوا کسی تیسرے انتخاب کا ہمارے لیے موقع نہیں۔ اختلاف نہیں سب سے اچھا انسان نو پرابلم انسان ہے۔ انسانی زندگی میں نزاع اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ ہر آدمی اپنا ایک ذہن بنا لیتا ہے۔ وہ اسی ذہن کو اچھا سمجھتا ہے۔ وہ چاہنے لگتا ہے کہ اسی کی بات چلے۔ اسی سے تمام جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر آدمی بے مسئلہ انسان بن جائے تو ہر مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ اجتماعی زندگی میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ ایک ہی بات سب سے زیادہ صحیح بات ہو۔ عام طور پر چیزوں کے مختلف پہلو ہوتے ہیں۔ ایک پہلو سے اگر آپ دیکھیں تو وہ صحیح دکھائی دے گا، لیکن اگر اینگل بدل دیا جائے تو دوسری بات صحیح نظر آنے لگے گی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپس میں مشورہ کا ماحول ہو۔ مشورہ دراصل اپنی عقل میں دوسروں کی عقل کو شامل کرنا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں محدود طور پر چیزوں کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader