حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
دیکھ پاتا ہے ، یا سوچ پاتا ہے۔ اس کی یہ محدودیت اس وقت ختم ہوسکتی ہے ، جب کہ دوسرے انسانوں کے ساتھ کوآپریشن (cooperation) کرنا سیکھے۔ آپسی اختلاف کو ختم کرنے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ کوئی فریق مسئلے کو ایگو کا مسئلہ نہ بنائے۔ ہر ایک اس کے لیے تیار رہے کہ وہ نزاع کے بغیر دوسرے کی بات مان لے گا۔ وہ یہ نہ سمجھے کہ اگر دوسرے کی بات چلی تو میری ہار ہو جائے گی۔ ہر آدمی دوسرے کی بات ماننے کے لیے تیار رہے۔ وہ مسئلے کو اس نظر سے دیکھے کہ زیادہ بہتر طریقے سے کام کو کیسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ سارا معاملہ تنگ نظری اور وسعتِ نظری کا ہے۔ اگر تنگ نظری کی نگاہ سے دیکھا جائے تو دوسرے کی بات ماننا ، دوسرے کے آگے جھکنا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر وسعت نظری کی نگاہ سے دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوگا کہ یہ بات اپنی ہی بات ہے۔ ہر جیت خود اپنی ہی جیت ہے۔ سب سے بری چیز خود غرضی (selfishness) ہے۔ اگر آدمی خود غرضی میں جئے تو ہر بات اس کو مسئلہ معلوم ہوگی ، اور اگر آدمی خود غرضی سے اوپر اٹھ جائے تو اپنے اور غیر کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ پھر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا اپنی ہے ، اور سارے انسان اپنے انسان ہیں۔ شکایت کا مزاج مولانا آپ شکایت کو شکر کا قاتل سمجھتے ہیں آخر کیوں شکایت اتنی بری چیز ہے ، کیا شکایت والا ذہن کفر تک پہنچا دیتا ہے؟ ( حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد ، تامل ناڈو) میں یہ نہیں کہتا کہ شکایت کفر ہے۔ شکایت صرف ایک برائی کا نام نہیں ہے۔ بلکہ وہ برائیوں کی جڑ ہے۔ ایک کے بعد دوسری ، دوسری کے بعد تیسری برائیوں کا نام شکایت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader