Urdu book · حکمتِ اختلاف

شکایت کا مزاج

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ یعنی شکایت اپنے ساتھ بہت سی دیگر برائیاں بھی لاتی ہے۔ اس طرح سے شکایت برائیوں کا منبع بن جاتی ہے۔ اگر آپ پتھر کا ایک ٹکڑا اپنی جیب میں رکھ لیں تو وہ جیسا آج ہے، ویسا ہی سوسال تک رہے گا۔ لیکن شکایت کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ شکایت ہمیشہ گرو (grow) کرتی ہے، یعنی وہ برابر بڑھتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ انسان کی پوری شخصیت پر چھاجاتی ہے۔ شکایت کوئی پازیٹیو (positive) چیز نہیں۔ وہ انسان کی شخصیت کو منفی شخصیت بنادیتی ہے۔ جو انسان شکایت کی نفسیات میں جیتا ہو، وہ شکر کی نفسیات سے خالی ہوگا۔ کسی انسان کے اندر شکایت کیوں پیدا ہوتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ انسان منصوبہ تخلیق سے بے خبر ہے۔ اللہ رب العالمین کے منصوبہ تخلیق کے مطابق ، اس دنیا میں انسان کو مصیبت سے چھٹکارا نہیں۔ انسان مصیبت کی وجہ سے شکایت میں مبتلا ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ۔ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ . أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (155-157:2)۔ یعنی ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے ، اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔ اس آیت سے یہ سبق ملتا ہے کہ شکایت انسانی شخصیت کی تعمیر کے لیے ایک قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان اپنے اندر صبر یعنی پازیٹیو سوچ کی صفت پیدا کرے ۔ یہ اس کی شخصیت کی تعمیر کرے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page