اعتدال کا مطلب
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
اعتدال کا مطلب ایک روایت کافی مشہور ہے۔ یہ روایت صحاح ستہ میں موجود نہیں، البتہ وہ دوسری کتب حدیث میں پائی جاتی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: خَيْرُ الْأُمُورِ أَوْسَاطُهَا (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 7176)۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں: خير الأمور أوسطها (جامع الاصول، جلد، 10، صفحه (130)۔ یعنی، معاملات میں بہتر طریقہ درمیانی طریقہ (middle path) ہے۔ اس روایت میں خیر الامور کا لفظ ہے، لیکن اکثر لوگوں نے اس کی توسیع کرکے اس کو خیر الافکار کے معنی میں لے لیا ہے۔ مگر یہ درست نہیں۔ یہ روایت عملی معاملات کے لیے ہے، وہ فکری معاملات کے لیے نہیں۔ مثلاً نفل نمازوں یا نفل روزوں کے بارے میں کوئی شخص مسئلہ پوچھے تو اس سے کہا جائے کہ تم درمیانی طریقہ یا اعتدال کا طریقہ اختیار کرو، نہ بہت کم نہ بہت زیادہ۔ اسی طرح انفاق کے معاملے میں کوئی شخص مسئلہ پوچھے تو اس سے بھی یہی کہا جائے گا کہ اعتدال کے ساتھ انفاق کرو۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا (17:29)۔ یعنی، اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ لو اور نہ اس کو بالکل کھلا چھوڑ دو کہ تم ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ۔ مگر افکار کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ افکار کے معاملے میں یہ دیکھا جائے گا کہ قرآن وسنت کی روشنی میں کون سا فکری موقف صحیح ہے اور کون سا فکری موقف غلط۔ مثلاً متطرفین (extremists) اور غیر متطرفین کے درمیان کوئی بیچ کا راستہ یا مسلک اعتدال نہیں ہوتا۔ یہاں یہ بتانا پڑتا ہے کہ دونوں میں سے کون سا گروہ صحیح ہے اور کون سا گروہ غلط۔ فکری معاملے میں قرآن کا اصول یہ ہے کہ حق کے بعد جو چیز ہے وہ ضلالت ہے: فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (10:32)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader