حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ عملی معاملات میں اعتدال کا طریقہ حکمت کا طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، فکری معاملات میں اعتدال کا طریقہ شبہ نفاق کی حیثیت رکھتا ہے۔ فکری معاملات میں وضوح (clarity)، اور یقین (conviction) مطلوب ہوتا ہے۔ اگر اعتدال کے طریقے کو فکر تک وسعت کیا جائے تو لوگوں کے ذہنوں میں یقین بھی ختم ہو جائے گا، اور وضوح بھی۔ معصبانہ طرزِ فکر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے : حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمِي وَيُصِمُّ (سنن ابی داود، حدیث نمبر 5130)_ یعنی کسی چیز کی محبت تم کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔ اس حدیث میں حُبّ سے مراد سادہ طور پر صرف محبت نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد غلو آمیز محبت ہے۔ اس حدیث میں حُبّ کے جس غیر مطلوب نتیجے کا ذکر ہے، اس کا تعلق غلو آمیز محبت سے ہے، نہ کہ صرف محبت سے۔ غلو آمیز محبت آدمی کے اندر جو غیر مطلوب صفت پیدا کرتی ہے، وہ وہی چیز ہے جس کو متعصبانہ فکر (biased thinking) کہا جاتا ہے۔ یہی متعصبانہ فکر ہے جو آدمی کو کسی چیز کے بارے میں اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں قوم پرستی اس کا ایک ظاہر ہ ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب اپنی کمیونٹی اور دوسری کمیونٹی کا کوئی معاملہ پیش آ جائے تو وہ اپنی کمیونٹی کی غلطی سمجھ نہیں پاتے۔ ان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ میں ہر حال میں اپنی کمیونٹی کے ساتھ دوں گا، خواہ وہ صحیح ہو یا غلط : My community, right or wrong اس متعصبانہ طرزِ فکر کا بیک وقت دو نقصان ہے۔ ایک یہ کہ خود آدمی کے اندر ابدی طور پر منفی سوچ (negative thinking) پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اس صلاحیت سے محروم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader