حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو جاتا ہے کہ وہ چیزوں کو غیر جانبدارانہ انداز (impartial way) میں دیکھ سکے۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ وہ خود اپنی کمیونٹی کے لیے ایک برا قائد بن جاتا ہے۔ اختلافی معاملات میں وہ اپنی کمیونٹی کو صحیح رہنمائی نہیں دے پاتا۔ متعصبانہ طرز فکر ہر حال میں ایک تباہ کن طرز فکر ہے۔ ایسا آدمی اس سے محروم ہو جاتا ہے کہ وہ دنیا میں اس صالح غذا کو لے سکے جو اس کے خالق نے اس کے لیے مقدر کیا ہے اور جس کو قرآن میں رزقِ رب کہا گیا ہے۔ رزقِ رب کا حصول اس دنیا میں ربانی شخصیت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے، لیکن اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کی سعادت صرف اس شخص کو ملتی ہے جس کے اندر مثبت سوچ پائی جائے۔ اجتماعی کام کی اہمیت حدیث میں آیا ہے کہ: يَدُ اللَّهِ مَعَ الجَمَاعَةِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2166)۔ یعنی اللہ کی مدد جماعت کے ساتھ ہے۔ اس حدیثِ رسول میں ’جماعت‘ سے مراد وہی چیز ہے جس کو ٹیم (team) کہا جاتا ہے۔ اللہ کا ہاتھ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جب کچھ لوگ ایک ٹیم بنا کر کام کرتے ہیں تو اللہ کے قائم کردہ فطرت کے قوانین ان کے مددگار بن جاتے ہیں۔ کسی گروہ میں ٹیم اسپرٹ اس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ اس کا شروع کیا ہوا کام کسی غیر ضروری مسئلہ (problem) کا شکار نہ ہو۔ ہر فرد کی صلاحیت مقرر نشانے کے لیے بھرپور طور پر استعمال ہوتی رہے۔ جس گروہ کے افراد میں حقیقی طور پر ٹیم اسپرٹ موجود ہو، اس کے افراد اپنی نفسیات کے اعتبار سے، اس سے بلند ہو جاتے ہیں کہ وہ شکایت اور اختلاف کو عذر (excuse) بنا لیں۔ ایسے لوگوں کی اجتماعی جدوجہد کا یہ انجام کبھی نہیں ہوتا کہ اس کے افراد اختلاف و انتشار کا شکار ہو کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader