Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

بکھر جائیں ، اور مطلوب مشن اپنی تکمیل تک پہنچنے سے پہلے ختم ہو جائے۔ کوئی بڑا کام صرف اجتماعی کوشش سے انجام پا تا ہے۔ اجتماعی کوشش کی کامیابی کی دو بنیادی شرطیں ہیں۔ یہ شرطیں قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہیں۔ وہ آیت یہ ہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً وَلَا تَفَرَّقُوا ( 3:103 )۔ یعنی تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور متفرق نہ ہو۔ قرآن کی اس آیت میں ’’حبلِ اللہ‘‘ سے مراد مشترک نظریاتی بنیاد ہے۔ متفرق نہ ہونے کا تعلق عملی جد و جہد سے ہے۔ کامیاب عملی جد و جہد کی شرط یہ ہے کہ ہر حال میں باہمی اتحاد کو برقرار رکھا جائے۔ اور عذر، خواہ وہ کتنا ہی قوی ہو، اس کو ٹیم سے علیحدگی کا جواز (justification) نہ بنایا جائے۔ ان دو بنیادی شرطوں کے ساتھ جو اجتماعی جد و جہد کی جائے، اس کو ضرور اللہ کی نصرت حاصل ہوتی ہے، اور جس جد و جہد کو اللہ کی نصرت حاصل ہو جائے، اس کی کامیابی کو روکنے والا کوئی نہیں۔ اختلاف کثیر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت میں جو فتنے پیدا ہونے والے تھے، اس کے بارے میں بہت سی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ مثلاً ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافاً كَثِيراً (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4607)۔ یعنی، میرے بعد تم میں سے جو لوگ زندہ رہیں گے، وہ بہت زیادہ اختلافات دیکھیں گے۔ اس دورِ اختلاف میں امت کے افراد کو کیا کرنا ہے، اس کے بارے میں روایتوں میں امت کے لیے آپ کی مختلف ہدایات آئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے: مَنْ كَانَ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page