حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2887)۔ یعنی، جس شخص کے پاس اونٹ ہو، وہ اپنے اونٹ سے ملحق ہو جائے اور جس شخص کے پاس بکری ہو، وہ اپنی بکری سے ملحق ہو جائے اور جس شخص کے پاس کھیت ہو، وہ اپنے کھیت کے ساتھ ملحق ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے، کہ جب امت میں اختلاف وانتشار پیدا ہو جائے تو اس وقت ایک خدا ترس مومن کو یہ کرنا ہے کہ وہ خود اپنے آپ میں مشغول ہو جائے، اس کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے اوپر احتسابی نظر ڈالنے کے بجائے خود اپنے آپ پر فوکس کرے، اصلاح غیر کا جھنڈا اٹھانے کے بجائے وہ اصلاحِ خویش کو اپنا کَنسَرن (concern) بنا لے۔ وہ محدود دائرے میں اپنی ذاتی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے دوسروں کے لیے دعائے خیر کرے ۔ اختلاف و انتشار کی صورتِ حال دراصل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ امت دورِ زوال میں پہنچ جائے۔ ایسے حالات میں اصلاح غیر کی مہم چلانا عملی نتیجے کے اعتبار سے صرف اختلاف وانتشار کو بڑھاوا دینے کے ہم معنی ہوتا ہے؟ اس لیے ایسے حالات میں نتیجہ کو دیکھتے ہوئے اپنے عمل کا منصوبہ بنانا چاہیے، نہ کہ صرف اپنے ذہنی معیار کو سامنے رکھ کر۔ ایسی بحثیں نہ چھیڑو جو لوگوں کو اللہ سے غافل کر دے وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّيَتَّخِذَهَا هُزُواً أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ۔ وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ آيَاتُنَا وَلَّى مُسْتَكْبِراً كَّأَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِي أُذُنَيْهِ وَقْراً فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (31:6-7) ۔ یعنی، اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے کہ مول لیتا ہے غافل کرنے والی بات (لَهْوَ الْحَدِيثِ) کو تاکہ اللہ کی راہ سے بے سمجھے بھٹکا دے اور اس کی ہنسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader