Urdu book · حکمتِ اختلاف

ایسی بحثیں نہ چھیڑو جو لوگوں کو

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

اُڑائے۔ ایسے لوگوں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ اور جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ گھمنڈ کے ساتھ اس طرح منہ موڑ لیتا ہے جیسے اس کو سنا ہی نہیں۔ جیسے اس کے کان بہرے ہیں۔ اس کو خبر دے درد دکھ والے عذاب کی۔ اس آیت میں لھو الحدیث سے کیا مراد ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین کی رائے مختلف ہیں۔ عبداللہ بن مسعودؓ نے اس کی تفسیر غناء سے کی ہے، اور ضحاک نے شرک سے (تفسیر ابن کثیر، جلد 6، صفحہ 109)۔ مگر مفسرین کے (and song entertainment music) اصول کے مطابق، اس کا شان نزول اگرچہ خاص ہو تب بھی عموم الفاظ کی وجہ سے اس کا حکم عام رہے گا۔ جو لہو یا شغل بھی سبیل اللہ سے ہٹانے کا سبب بنے وہ سب درجہ بدرجہ اس میں شامل ہوگا۔ ابن جریر نے کہا ہے کہ ہر وہ کلام لہو الحدیث ہے جو اللہ کی آیتوں سے رو کے اور اس کے راستہ کے اتباع سے ہٹائے (کُلُّ كَلَامٍ يَصُدُّ عَنْ آيَاتِ اللَّهِ وَاتَّبَاعِ سَبِيلِهِ) تفسیر ابن کثیر، جلد 6، صفحہ 109۔ حسن بصری نے کہا کہ ہر وہ چیز لہو الحدیث ہے جو اللہ کی عبادت اور اس کی یاد سے ہٹانے والی ہو مثلاً فضول قصہ گوئی، ہنسی مذاق کی باتیں، بے کار مشغلے، گانا بجانا وغیرہ (كُلُّ مَا شَغَلَكَ عَنْ عِبَادَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَذِكْرِهِ مِنَ السَّمَرِ وَالْأَضَاحِيكِ وَالْخُرَافَاتِ وَالْغِنَاءِ وَنَحْوِهَا) روح المعانی، جلد 11، صفحہ 66۔ موجودہ زمانہ میں کون سی چیزیں ہیں جو لہو الحدیث کا مصداق ہیں ؀ وہ تمام تفریحی تماشے اور وہ سستا لٹریچر اس میں شامل ہے جو اپنی سنسنی خیزی اور رومانیت کی وجہ سے لوگوں کے لیے ذہنی شراب بنا ہوا ہے۔ اس میں وہ مقدس حلقے بھی شامل ہیں جنھوں نے بناوٹی قصے کہانیوں کی ایک مذہبی طلسم ہوش ربا تیار کر رکھی ہے اور اس کو سنا سنا کر لوگوں کو مدہوش رکھتے ہیں۔ وہ شعر و شاعری اور خطابت بھی اس میں شامل ہے جو لفظ بازی کے کرتَب دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page