حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح اس میں وہ سیاسی تحریکیں بھی شامل ہیں جو سیاست کی چاشنی تقسیم کرکے لوگوں کو اپنی طرف مائل کیے ہوئے ہیں۔ پھر اس میں وہ تمام مذہبی مناظرے (مسلکی اختلافات) بھی شامل ہیں جو لوگوں کے ذہنوں کو غیر متعلق بحثوں میں الجھا کر مثلِ صحابہ ایمان سے دور کر دیتے ہیں۔ غرض وہ تمام آوازیں جو جو تفریحی دل چسپی کا سامان پیدا کرکے لوگوں کو حق کے راستے سے غافل کریں اور اللہ کے سیدھے سادے دین سے بے رغبت کریں۔ وہ سب درجہ بدرجہ اس میں شامل رہیں گی ۔ خواہ اپنے اس مشغلہ کو انھوں نے ارادہ حق سے روکنے کے لیے جاری کیا ہو یا ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے بطور واقعہ یہ نتیجہ برآمد ہو رہا ہو۔ نزاع کا مسئلہ دو فریقوں کے درمیان اگر نزاع پیدا ہو جائے تو اس وقت یہ موقع نہیں ہوتا ہے کہ کون صحیح ہے، اور کون غلط۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ آپ یہ تلاش کریں کہ نزاع کو فوری طور پر ختم کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ کیوں کہ نزاع کو ختم کرنے سے آپ کو نیا اسٹارٹنگ پوائنٹ (starting point) مل جاتا ہے، اور اگر آپ نزاع کو ختم نہ کریں تو آپ کو کوئی اسٹارٹنگ پوائنٹ نہیں ملے گا۔ آپ ہمیشہ منفی ذہن میں جیتے رہیں گے، اور نئے آغاز کے لیے کوئی سرا کبھی نہ پاسکیں گے۔ پیغمبر اسلام صلی الہ وسلم نے 610 عیسوی میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ اس وجہ سے قدیم مکہ کے قریش آپ کی مخالف ہو گئے۔ یہاں تک کہ تیرہ سال بعد آپ کو مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ جانا پڑا ۔ اس کے باوجود اہل قریش آپ کے خلاف نزاع کے طریقے پر باقی رہے۔ چنانچہ 628 عیسوی میں آپ نے قریش کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر ایک معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ یک طرفہ طور پر قریش کے حق میں تھا۔ اس کے باوجود آپ نے یہ معاہدہ کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader