حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی معاملے میں جب دونزاعی فریق بن جائیں تو دونوں میں سے کوئی فریق جج کی سیٹ پر نہیں ہوتا ہے۔ جو انصاف کی بنیاد پر اگلے فریق کو اس کا حق عطا کرے۔ اس لیے آئیڈیل کی بنیاد پر نزاع کو ختم کرنا عملی طور پر لا حاصل ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر عقل مند وہ ہے، جو تاخیر کے بغیر پریکٹیکل کی بنیاد پر نزاع کو ختم کر دے۔ تاکہ نیا آغاز شروع ہو سکے۔ نزاع کیوں پیدا ہوتی ہے۔ اس کا سبب ایگو (ego) کا بچ ہونا ہے، اور جب ایگو بچ ہو جائے تو معاملہ عقلی بنیاد پر حل نہیں کیا جاسکتا ، بلکہ پریکٹیکل وزڈم کی بنیاد پر حل ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے حدیبیہ کے موقع پر یہ دیکھا کہ جب آئیڈیل کو بنیاد بنایا جائے تو معاہدہ نہیں ہوسکتا ہے، اور نزاع بدستور جاری رہے گا۔ چنانچہ آپ نے یک طرفہ طور پر قریش مکہ کی تمام شرائط کو مان کر نزاع کو ختم کر دیا۔ یہاں تک کہ انھوں نے جب یہ مطالبہ کیا کہ ”رسول اللہ“ کا لفظ مٹایا جائے تو آپ نے یہ مطالبہ بھی مان لیا۔ آپ کا یہ عمل پریکٹیکل وزڈم کی بنیاد پر نزاع کو ختم کرنے کی روشن مثال ہے۔ نزاع مینجمنٹ نزاع پیدا ہونے کے وقت کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے، وہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ (22:67)۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: پس وہ امر میں ہر گز تم سے نزاع نہ کریں۔ لفظی طور پر دیکھیے تو بظاہر اس آیت میں فریق ثانی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہرگز تم سے نزاع نہ کرے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے۔ بلکہ عربی اسلوب کے مطابق، اس کا مطلب یہ ہے کہ فریق ثانی کو تم یہ موقع نہ دو کہ وہ تم سے نزاع کرے ۔ اس آیت کی تفسیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی ( وفات 1810ء) نے زجاج کا قول نقل کیا ہے: قَالَ الزَّجَّاجُ: مَعْنَى قَوْلِهِ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ لَا تُنَازِعْهُمْ أَنْتَ، كَمَا يُقَالُ: لَا يُخَاصِمَنَّكَ فُلَانٌ، أَيْ لَا تُخَاصِمْهُ، وَهَذَا جَائِزٌ فِيمَا يَكُونُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَلَا يَجُوزُ لَا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader