حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
جو آدمی حکمت کا طریقہ اختیار نہ کرے، وہ صرف مسائل کو بڑھائے گا، وہ مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔ زندگی میں کوئی حقیقی کامیابی صرف صبر کا طریقہ اختیار کرنے والے کو حاصل ہوتی ہے۔ صبر کا طریقہ چھوڑنے کے بعد کسی کو کوئی حقیقی کامیابی ملنے والی نہیں۔ اجتماعی معاملات کو ہمیشہ حق اور ناحق کے نظریے سے دیکھنا صرف جوش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر صبر و تحمل ہو، وہ معاملے میں سنجیدگی کے ساتھ غور کریں گے اور پھر وہی طریقہ اختیار کریں گے جو صورت حال کی روشنی میں نتیجہ خیز ثابت ہونے والا ہو۔ بلند فکری موجودہ دنیا میں آدمی ہر وقت اپنے قریبی حالات میں گھرار ہتا ہے۔ ایسی صورت میں صحیح سوچ کا مالک صرف وہ شخص بنے گا جو اپنے اندر بلند فکری (high thinking) کی صفت پیدا کرے، وہ اپنے قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچے، وہ غیر متاثر ذہن کے تحت معاملات پر رائے قائم کرے ۔ اس طرزِ فکر کا فارمولا صرف ایک ہے - اپنی سطح سے اوپر اٹھ کر سوچنا : To think beyond the limit آدمی ہمیشہ کچھ لوگوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ لوگوں کی طرف سے اس کو بار بار ناخوش گوار قسم کے تجربات پیش آتے ہیں۔ ان ناخوش گوار تجربات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے اندر بطور رد عمل طرح طرح کے غیر حقیقی جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلاً غصہ، حسد، نفرت، انتقام، احساسِ برتری، یا احساس کم تری، وغیرہ۔ ہر آدمی اسی قسم کے منفی احساسات کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ یہ احساسات جو ہمیشہ رد عمل کی نفسیات کے تحت پیدا ہوتے ہیں، وہ انسان کو غیر حقیقت پسندانہ سوچ میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ وہ فطرت کے مقررہ راستے سے ہٹ کر غیر فطری راستے پر چلنے لگتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader