حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں کامیابی کا طریقہ صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے، وہ متاثرہ ذہن کے تحت کوئی فیصلہ نہ کرے ۔ وہ اپنے اندر وہ چیز پیدا کرے جس کو غیر متعصبانہ ذہن، یا تخلیقی فکر (creative thinking) کہا جاتا ہے۔ ایسا ہی انسان اس دنیا میں درست انداز میں سوچے گا اور اپنے عمل کی درست منصوبہ بندی کرے گا اور آخر کار کامیابی کی منزل تک پہنچے گا۔ بلند فکری کسی انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ بلند فکری میں جو چیز سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وہ ڈسٹرکشن (distraction) ہے، یعنی ذہن کا مختلف سمتوں میں منتشر ہو جانا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ہر قسم کے ذہنی انتشار سے بچائے ، تاکہ وہ اپنے اندر صحت فکر کو قائم رکھ سکے۔ یہ دراصل صحت فکر ہی ہے جو انسان کو حیوان سے ممیز کرتی ہے۔ امت میں اختلاف کا مسئلہ امت کے افراد میں دینی مسائل کے بارے میں ہمیشہ اختلاف پایا گیا ہے۔ اس طرح کے اختلافات کے بارے میں کچھ لوگوں نے شدت اختیار کی اور اس کو حق اور ناحق کا مسئلہ بنا دیا۔ لیکن علمائے اسلام کی اکثریت یہ مانتی ہے کہ غیر اساسی امور میں اختلاف فطری چیز ہے۔ ایسے اختلافات کو حق اور ناحق کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ مثال کے طور پر آٹھویں صدی ہجری کے مشہور عالم شمس الدین ابن مفلح (وفات 1326ء) نے اپنی کتاب ”الفروع“ میں اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علمائے امت کا اختلاف ایک رحمت واسعہ ہے : اخْتِلَافُهُمْ رَحْمَةٌ وَاسِعَةُ (الفروع مع شرحہ تصحیح الفروع، جلد 11 ، صفحه 103) ۔ اختلاف کے معاملے کا یہی ایک پہلو نہیں ہے کہ اس میں شدت نہ اختیار کی جائے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader