حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانی علوم کا معاملہ فٹی فٹی کے اصول پر مبنی ہے ۔ پچاس فی صداستدلال (reasoning) اور پچاس فی صد وجدان (intuition)۔ پہلے جزء کا تعلق معلومات (information) سے ہے، اور دوسرا جزء معرفت یا حقیقت شناسی (realization of truth) سے تعلق رکھتا ہے۔ جو آدمی صرف معلومات کو جانتا ہو، مگر اس کے اندر حقیقت شناسی کی صلاحیت موجود نہ ہو، وہ ہمیشہ ذہنی انتشار (confusion) میں مبتلا رہے گا، وہ کبھی سچائی تک پہنچ نہ سکے گا۔ اختلاف ایک صحت مند ظاہر ہ علامہ ابن تیمیہ کی کتاب الفتاوی الکبری (مجموعہ فتاوی) میں ایک واقعہ ان الفاظ میں آیا ہے: صَنَّفَ رجلٌ کتاباً سمّاہ کتاب الاختلاف“، فقال أحمدُ بن حنبلِ: سمّہ کتاب السّعةَ، (جلد 3، صفحہ 238)۔ یعنی ایک شخص (اسحاق بن بہلول) نے ایک کتاب لکھی۔ اُس نے اس کتاب کا نام ”کتاب الاختلاف“ رکھا۔ یہ کتاب اُس نے امام احمد بن حنبل کی خدمت میں پیش کی ۔ امام احمد بن حنبل نے اس کتاب کو دیکھ کر کہا کہ تم اس کتاب کا نام کتاب الاختلاف نہ رکھو، بلکہ تم اس کتاب کا نام کتاب السعۃ (توسیع والی کتاب) رکھو۔ امام احمد بن حنبل کا مطلب یہ تھا کہ شرعی مسائل میں اختلاف محض اختلاف نہیں ہے، بلکہ وہ توسّع کی بنا پر ہے، یعنی ہر رائے میں صحت کا امکان ہے۔ تاہم یہ توسّع سادہ مفہوم میں محض رواداری کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اُس کا ایک مثبت پہلو ہے۔ وہ یہ کہ اختلاف ڈسکشن (discussion) کا ذریعہ بنتا ہے اور ڈسکشن سے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اختلاف سے مراد نزاع نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد سادہ طور پر رائے کا فرق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader