حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
(difference) ہے۔ رائے کا یہ فرق یا اختلاف بے حد اہم ہے۔ اسی کی بنا پر ڈسکشن اور ڈائیلاگ ہوتا ہے اور تبادلۂ خیال (exchange of thought) وجود میں آتا ہے۔ اگر رایوں میں فرق نہ ہو تو باہمی تبادلۂ خیال وجود میں نہیں آئے گا، حالاں کہ ذہنی ارتقا کے لیے تبادلۂ خیال بے حد ضروری ہے۔ جہاں تبادلۂ خیال نہیں، وہاں ذہنی ارتقا بھی نہیں۔ واضح ہو کہ اختلاف اور مخالفت میں فرق ہے۔ اختلاف ایک مثبت عمل ہے۔ اس کے برعکس، مخالفت سراسر ایک منفی عمل۔ اختلاف فکری ارتقا کا سبب ہے اور مخالفت فکری جمود (intellectual stagnation) کا سبب۔ اختلاف ایک برکت عمر بن عبدالعزیز (وفات 101ھ) کو اسلام کی تاریخ میں پانچویں خلیفۂ راشد کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: مَا سَرَّنِي لَوْ أَنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّد صلی الله عليه وسلم لَمْ يَخْتَلِفُوا، لِأَنَّهُمْ لَوْ لَمْ يَخْتَلِفُوا لَمْ تَكُنْ رُخْصَةٌ (الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدادی، جلد 2، صفحہ 116)۔ یعنی میرے لیے یہ چیز باعث مسرت نہیں کہ اصحاب محمد میں اختلاف نہ ہوتا، اس لیے کہ اگر وہ اختلاف نہ کرتے تو ہم کو رخصت کا فائدہ نہ ملتا۔ عبادتی امور میں صحابہ کا اختلاف بعد کے زمانے میں مختلف فقہی اسکول کا ذریعہ بن گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے علما نے اختلاف کے معاملے میں ترجیح کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی مختلف مسالک میں کسی ایک طریقہ کو راجح اور کسی کو مرجوح قرار دینا۔ اس سے فقہ میں مختلف مدرسے بن گئے۔ اور بالآخر امت کے اندر فقہی تشدد پیدا ہو گیا۔ عمر بن عبدالعزیز کا یہ قول ایک حدیث پر مبنی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمْ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ (جامع بیان العلم و فضله، حدیث نمبر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader