حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
(1760۔ یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو، تم ہدایت پر رہو گے۔ صحابہ کا اختلاف اساسی امور (basics) میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ جزئی امور (non-basics) میں ہے۔ اس طرح کے جزئی امور میں ہمیشہ تنوع (diversity) مطلوب ہوتی ہے۔ اس طرح کے جزئی امور میں توحد (یکسا نیت) تلاش کرنا، غیر فطری ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کے جزئی اختلاف کو تنوع پر محمول کیا جائے، ان کو تو حد کا موضوع نہ بنایا جائے۔ اس اصول کو اختیار کرنے کی صورت میں امت کے اندر اتحاد باقی رہے گا۔ اس کی خلاف ورزی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ امت کے اندر اختلاف و انتشار پیدا ہو جائے گا۔ ایک امت کئی فرقوں میں بٹ جائے گی۔ یہ اختلاف بڑھ کر غلو اور تشدد کی صورت اختیار کرلے گا۔ اسلام کے بعد کے زمانے کی تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔ تفریق کا سبب اختلافات ہمیشہ چھوٹے مسائل میں ہوتے ہیں، نہ کہ بڑے بڑے مسائل میں۔ مثلاً "محمد بن عبد اللہ پیغمبر تھے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ یہ عقیدہ تمام مسلمانوں کا مشترکہ عقیدہ ہے۔ مگر آپ پر درود کیسے بھیجا جائے، اس میں جزئی اختلافات پیدا ہو گئے۔ مثلاً سنی حضرات پیغمبر اسلام کے نام کے ساتھ "صلی اللہ علیہ وسلم" کا لفظ لکھتے اور بولتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں شیعہ حضرات کا طریقہ یہ ہے کہ وہ آپ کے نام کے آگے "صلی اللہ علیہ والہ" یا "صلی اللہ علیہ والہ وسلم" کا لفظ بولتے ہیں۔ اسی طرح مثلاً تمام مسلمان اس کو مانتے ہیں کہ ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان سے ملے تو وہ سلام اور مصافحہ کرے مگر یہاں یہ اختلاف ہے کہ حنفی لوگ دونوں ہاتھوں سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader