Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

مصافحہ کرتے ہیں اور اہل حدیث حضرات ایک ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں۔ شریعت میں اس طرح کے اختلافات کا پیدا ہونا بذات خود نہ غلط ہے اور نہ مضر، بلکہ اس طرح کے اختلافات ایک طبعی امر ہیں اور ہر گروہ میں اور ہر زمانہ میں پیدا ہوتے ہیں۔ مگر اصل غلطی یہ ہے کہ لوگ موشکافیاں (hair-splitting) کر کے یہ ثابت کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ ان کا طریقہ افضل ہے اور دوسرے کا طریقہ غیر افضل ان کا طریقہ راجح ہے اور دوسرے کا طریقہ مرجوح۔ بس یہیں سے خرابی شروع ہو جاتی ہے۔ لوگ غیر ضروری بحثیں کرنے لگتے ہیں اور انھیں چھوٹی چھوٹی باتوں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے معاملات میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ یہ تسلیم کر لیا جائے کہ یہ بھی درست ہے اور وہ بھی درست ہے۔ آدمی جس طریقہ کو چاہے اختیار کرے اور اس کے ساتھ دوسرے کو دوسرے طریقہ پر چلنے دے۔ اس طرح کے ضمنی امور میں راجح اور مرجوح، افضل اور غیر افضل کی بحث چھیڑنا سخت مضر ہے۔ ایسی بحث ہمیشہ اس قیمت پر ہوتی ہے کہ بنیادی چیزوں سے نظریں ہٹ جائیں اور غیر بنیادی چیزیں لوگوں کی توجہات کا مرکز بن جائیں اور نتیجہ میں امت مختلف ٹکڑوں میں بٹ کر رہ جائے۔ اساسی اور بنیادی چیزوں میں زور دینے کا لازمی نتیجہ اتحاد ہے اور جزئی اور ضمنی چیزوں میں زور دینے کا لازمی نتیجہ اختلاف۔ کلیات کے بجائے جزئیات اسلامی شریعت کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک کلیات اور دوسرے جزئیات۔ شریعت کے کلی احکام واضح نصوص پر مشتمل ہیں۔ اس لیے ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ شریعت کے اس پہلو پر تمام فقہا یکساں طور پر متفق ہیں۔ مگر جزئیاتِ شریعت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page