پانچ فقہی اسکول
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ اگر کسی مسئلے میں صحابہ کا اختلاف ہو، تو کیا تنقید اور تمحیص کرنا چاہیے، تاکہ جس کے ساتھ حق نظر آئے، اس کی پیروی کی جائے۔ احمد بن حنبل نے جواب دیا کہ نہیں۔ انھوں نے کہا، پھر ہم کیا کریں۔ احمد بن حنبل نے کہا: تُقَلِّدُ أَيَّهُمْ أَحْبَبْتَ (جامع بیان العلم لابن عبد البر، اثر نمبر 1705)۔ یعنی تم جس صحابی کے قول کو پسند کرو، اس کی تقلید کرو۔ محدثین کے مسلک کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے روایتوں کے اس فرق کو تنوع (diversity) پر محمول کیا، یعنی یہ بھی ٹھیک، اور وہ بھی ٹھیک۔ یہ نظریہ انھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قسم کی حدیث سے اخذ کیا: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمْ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ (جامع بیان العلم وفضله، حدیث نمبر 1684)۔ یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں۔ اُن میں سے تم جس کی بھی پیروی کرو گے، راہ یاب ہو گے۔ اس نقطۂ نظر کی حکمت یہ تھی کہ چیزوں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اُن کے کچھ اساسی اجزا ہوتے ہیں، اور کچھ فروعی اجزا۔ یہ ایک عام اصول ہے کہ وحدت (oneness) اساسیات میں مطلوب ہوتی ہے۔ جہاں تک فروع (non-basics) کا تعلق ہے، اُن میں ہمیشہ تنوع (diversity) ہوتا ہے۔ یہ ایک عمومی اصول ہے۔ فروع میں اگر تنوع نہ ہو تو اُس سے کٹرپن (rigidity) پیدا ہوتا ہے اور کٹرپن کسی بھی چیز کے لیے مفید نہیں۔ مزید یہ کہ خدا کی عبادت ایک زندہ عمل کا نام ہے۔ وہ کسی بے روح فارم کو دہرانے کا نام نہیں۔ عبادت کو جب اس کی زندہ اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے گا، تو یہی ہوگا کہ عبادت کے بنیادی اجزا کی حد تک تو یکسانیت ہوگی، لیکن اس کے فروعی اجزا میں تنوع پیدا ہو جائے گا۔ زندہ عبادت کبھی فروع میں یکسانیت کا تحمل نہیں کر سکتی۔ فروع میں یکسانیت لانے کی کوشش کرنا، عبادت کو بے روح رسموں کا ایک مجموعہ (set of rituals) بنا دینا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader