Urdu book · حکمتِ اختلاف

پانچ فقہی اسکول

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسی عبادت ایک مشینی روبوٹ (robot) کی عبادت ہوگی، نہ کہ کسی زندہ انسان کی عبادت۔ عبادت، اعلیٰ کیفیات کے تحت کیا جانے والا ایک عمل ہے۔ ایسا عمل کبھی یکسانیت کے ساتھ ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اصحاب رسول کی عبادت کے بارے میں جو روایات آئی ہیں، ان کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی عبادت اگرچہ اساسات (basics) کے اعتبار سے یکساں انداز میں ہوتی تھی، لیکن غیر اساسی اجزا کے اعتبار سے، ان کے یہاں ہمیشہ تنوع پایا جاتا تھا۔ اس قسم کی ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے جس سے صحابہ کی عبادت کا اندازہ ہوگا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رفاعہ بن رافع الانصاری (وفات 661ء) کی ایک روایت ہے، جو حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (مغرب کی) نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ نے رکوع کے بعد اپنا سر اٹھایا، تو آپ نے کہا: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ (اللہ نے سن لیا جس نے اس کی حمد کی)۔ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے ایک شخص نے اُس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً كَثِيراً طَيِّباً مُبَارَكاً فِيهِ (خدایا، تیرے لیے ہی حمد ہے، ایسی حمد جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت ہو)۔ نماز ختم ہوئی تو رسول اللہ نے پوچھا کہ کس شخص نے ایسا کہا تھا۔ اُس آدمی نے کہا کہ میں نے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا۔ اُن میں سے ہر ایک سبقت کر رہا تھا کہ وہ پہلے اس عمل کو لکھ لے (رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكاً يَبْتَدِرُونَهَا، أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلُ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 799۔ اس طرح کے بہت سے واقعات، حدیث کی کتابوں میں رسول اور اصحاب رسول کے بارے میں آئے ہیں۔ ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ نماز کسی سیٹ پیٹرن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page