پانچ فقہی اسکول
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
(set pattern) کا نام نہیں، نماز ایک زندہ عمل کا نام ہے۔ کوئی زندہ عمل کبھی لگے بندھے طریقے سے نہیں ہوسکتا۔ زندہ عمل کیفیت سے بھرا ہوا عمل ہوتا ہے، اور کیفیت کبھی یکسانیت کی پابند نہیں ہوسکتی۔ اس سے نماز کے معاملے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ نماز کے بنیادی ڈھانچے میں تو ہمیشہ یکسانیت پائی جائے گی، لیکن نماز کے فرعی اجزا ہمیشہ کیفیات کے تابع ہوتے ہیں۔ فرعی پہلوؤں میں کیفیت کا اظہار کبھی ایک طریقے پر ہوگا اور کبھی دوسرے طریقے پر۔ حقیقت یہ ہے کہ عبادت کو ہر پہلو سے یکساں قسم کے ڈھانچے کا پابند بنانا، عبادت کی اسپرٹ کے بھی خلاف ہے، اور پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے نمونے کے بھی خلاف۔ تاریخ بتاتی ہے کہ محدثین کے زمانے میں، یا اُن سے پہلے، مختلف قسم کے فقہی اسکول موجود نہ تھے۔ یہ اسکول بعد کو فقہا کے دور میں بنائے گئے۔ ابتدائی دور میں مختلف فقہی اسکول کا بننا محض ایک سادہ واقعہ معلوم ہوتا ہے، لیکن دھیرے دھیرے بعد کے زمانے میں، وہ غلو آمیز گروہ بندی کی صورت اختیار کر گیا، جب کہ غلو اسلام میں نہیں (لا غُلُوّ فی الإِسْلَام) ۔ (نوٹ: مذکورہ موضوع پر مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب : تجدید دین)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader