فقہی مسائل میں اختلاف
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
فقہی مسائل میں اختلاف فقہی مسائل میں اختلاف کا معاملہ زیادہ تر عبادت کے طریقوں میں اختلاف سے تعلق رکھتا ہے۔ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي (صحیح البخاری، حدیث نمبر 631)۔ یعنی تم نماز اس طرح پڑھو جیسا کہ تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ (سنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 9524)۔ یعنی، مناسک میں میری پیروی کرو۔ اس طرح کی احادیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ہی غیر اختلافی ماڈل تھا۔ لیکن رسول اللہ کے بعد صحابہ عملی اعتبار سے قابل تقلید نمونہ بن گئے۔ رسول اللہ کی وفات کے بعد صحابہ مختلف بیرونی علاقوں میں پھیل گئے۔ لوگوں نے دیکھا کہ صحابہ کے عبادتی طریقوں میں کامل یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ مثلاً نماز میں قرأت سے پہلے بسم اللہ پڑھنا یا نہ پڑھنا، امام کے پیچھے مقتدی کا قرأت فاتحہ کرنا یا نہ کرنا، نماز میں آمین بالسر اور آمین بالجهر کا اختلاف، وغیرہ۔ صحابہ کے درمیان اس قسم کا اختلاف (صحیح تر لفظ میں فرق) پہلے بھی موجود تھا، مگر پہلے اس فرق کو بحث کا موضوع نہیں بنایا جاتا تھا۔ بعد کے زمانے میں جب کہ مسلم معاشرے میں نوممسلموں کی تعداد زیادہ ہو گئی تو اس فرق پر سوال کیا جانے لگا۔ اب اس اختلاف کو موضوع بنا کر یہ سوال کیا جانے لگا کہ ان میں سے صحیح تر ماڈل کون سا ہے۔ یہ نومسلم جن مذاہب سے نکل کر آئے تھے، وہاں انھوں نے دیکھا کہ اس قسم کے فرق کو بنیادی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader