Urdu book · حکمتِ اختلاف

فقہی مسائل میں اختلاف

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

اہمیت دی جاتی ہے۔ اس قسم کے فرق کی بنیاد پر دوسرے مذاہب میں الگ الگ فرقے بنے ہوئے ہیں۔ اپنے اس قدیم ذہن کو انھوں نے اسلام پر بھی منطبق (apply) کر دیا۔ اس ذہن کے تحت وہ اس وقت کے مسلم علما سے سوالات کرنے لگے۔ یہی وہ ظاہر ہ ہے جس نے اسلام میں مذہبی فرقہ بندی کے دور کا آغاز کر دیا۔ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پیشگی ہدایت کے طور پر موجود تھی۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمْ اَقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ (جامع بیان العلم وفضله، حديث نمبر 1760)۔ یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے جس کی بھی تم پیروی کرو گے تم ہدایت پر ہو گے۔ اس حدیث کے مطابق صحابہ کے درمیان عبادت کے طریقوں میں اختلاف تنوع (diversity) کی بنا پر تھا، یعنی ہر طریقہ جو کسی صحابی سے ثابت ہو وہ یکساں طور پر درست ہے۔ عقلی طور پر تنوع کا یہ طریقہ قابل فہم تھا، کیوں کہ صحابہ کا اختلاف یا فرق صرف جزئیات (non-basics) میں تھا، وہ کلیات (basics) میں نہ تھا۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ فطری قانون کے مطابق جزئیات میں ہمیشہ فرق پایا جاتا ہے، جزئیات میں یکسانیت (uniformity) کا حصول ممکن نہیں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے زمانے میں امت کے اندر یہ اختلاف مسلکی شدت کا سبب بن گیا۔ جب کہ یہ اختلاف خود صحابہ میں موجود تھا، مگر صحابہ کے درمیان ان اختلافات کی بنیاد پر کوئی مسلکی تشدد نہیں پیدا ہوا۔ اس کا سبب واضح طور پر یہ تھا کہ صحابہ مختلف طریقوں پر عبادت کرتے تھے، لیکن ان میں سے کسی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ فلاں طریقہ افضل ہے، اور فلاں طریقہ غیر افضل۔ وہ مختلف طریقوں پر اس طرح عمل کرتے تھے جیسے کہ ہر طریقہ یکساں طور پر درست ہو۔ مگر بعد کو ایسا ہوا کہ انہی اختلافات کو لے کر امت مختلف فرقوں، بلکہ متحارب گروہوں میں بٹ گئی۔ جب کہ اس قسم کی فرقہ بندی شریعت میں سخت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page