Urdu book · حکمتِ اختلاف

فقہی مسائل میں اختلاف

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

محموم(الروم ، 30:32) ہے۔ اس معاملے میں اصل غلطی عباسی دور کے علمائے فقہ کی ہے، جن کو ائمہ مجتہدین کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اس اختلاف کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں لکھیں۔ انھوں نے یہ کیا کہ ان اختلافات کو بطور خود وہ درجہ دے دیا جو کہ شریعت میں ان کا درجہ نہ تھا، اور نہ کسی صحابی نے ان اختلافات کے بارے میں ایسا کہا تھا۔ ان فقہا نے یہ کیا کہ انھوں نے ترجیح (preference) کے نام سے بطور خود ایک اصول وضع کیا۔ انھوں نے لمبی بحثیں کر کے ایک طریقے کو راجح اور دوسرے طریقے کو مرجوح ثابت کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے اختلافات کو بیان کیا، اور پھر ایک مسلک کو لے کر کہا: ہذَا أَحْوَطُ (یہ زیادہ محتاط طریقہ ہے)، ہذَا أَفْضَلُ (یہ زیادہ افضل طریقہ ہے)۔ انھوں نے بطور خود ایک مسلک کو اولیٰ اور دوسرے مسلک کو غیر اولیٰ قرار دیا۔ یہ بلاشبہ علمائے فقہ کی ایک اجتہادی غلطی تھی۔ یہی وہ اجتہادی غلطی ہے جس نے امت میں فقہی تشدد کا آغاز کر دیا، جو پھر کبھی ختم نہ ہو سکا۔ یہ انسان کی نفسیات ہے کہ اس کے لیے جب انتخاب افضل اور غیر افضل کے درمیان ہو تو وہ ہمیشہ افضل کا انتخاب کرے گا۔ وہ اپنے انتخاب کو درست ثابت کرنے کے لیے ہر طرح کے دلائل دے گا۔ بعد کے زمانے میں انسان کی یہی نفسیات بروئے کار آئی ، اور فقہی مسلک میں اختلاف کے نتیجے میں نفرت اور تشدد حتی کہ جنگ تک کو جائز کر لیا گیا۔ اس معاملے میں دور اول کے علما کو بری الذمہ قرار دینے کے لیے یہ کہا جاتا ہے کہ ایک مسلک کو قابل ترجیح قرار دینے کے باوجود وہ مسلک کے بارے میں متشدد نہ تھے۔ مثلاً حنفی اور شافعی فقہا نماز میں بسم اللہ پڑھنے کے قائل تھے، جب کہ مالکی فقہا اس کے قائل نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page