Urdu book · حکمتِ اختلاف

فقہی مسائل میں اختلاف

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

تھے، مگر دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کی۔ اسی طرح امام شافعی فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنے کے قائل تھے، جب کہ امام ابو حنیفہ اس کے قائل نہ تھے، مگر جب امام شافعی امام ابو حنیفہ کے مقبرہ کے پاس گئے اور وہاں فجر کی نماز ادا کی تو انھوں نے دعائے قنوت نہیں پڑھی، وغیرہ۔ مگر اس طرح کا عمل صرف انفرادی اخلاق کو ثابت کرتا ہے، اور شرعی اختلاف کے حل کے لیے شرعی اصول درکار ہے، نہ کہ انفرادی اخلاق۔ دینی امور میں جب کسی ایک طریقہ کو دوسرے طریقے کے مقابلے میں افضل بتایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ افضل طریقہ میں زیادہ ثواب ہے، اور غیر افضل طریقہ میں کم ثواب ہے۔ ایک فقہی عالم اگر افضلیت اور غیر افضلیت کی زبان میں اس طرح کا مسئلہ بتائے، اور اس کے بعد مخالف مسئلہ بتانے والے عالم کے پیچھے ایک بار نماز پڑھ لے تو اس قسم کے عمل سے فقہی تشدد ختم نہیں ہو سکتا۔ اس کا یہ عمل لوگوں کی نظر میں ذاتی نوعیت کا ایک اخلاقی برتاؤ یا حسن معاشرت قرار پائے گا، نہ کہ کوئی شرعی مسئلہ۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جب حسن معاشرت اور دینی افضلیت کے درمیان انتخاب (choice) ہو تو آدمی ہمیشہ اس طریقے کو لے گا جس کو افضل بتایا گیا ہے، اور غیر افضل پر عمل کرنے والے کو کم سمجھ لے گا۔ اس طرح کے شرعی معاملے میں حسن معاشرت کبھی فیصلے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ یہ مزاج یقیناً بڑھتے بڑھتے آخر کار فقہی تشدد اور فرقہ بندی کی صورت اختیار کرلے گا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ امت کے اندر بعد کے زمانے میں جو فقہی تشدد اور مسلکی فرقہ بندی پیدا ہوئی، اس کا سبب خود دین کی تعلیمات میں نہ تھا۔ اس کا سبب تمام تر علمائے متقدمین کی اس اجتہادی غلطی میں تھا کہ انھوں نے غیر ضروری طور پر ایک ایسے معاملے میں تو حد کا اصول اختیار کیا جو کہ دراصل توسع کا معاملہ تھا۔ ایک دینی اختلاف جو دراصل توسع (diversity) کی بنا پر تھا، اس کے معاملے میں انھوں نے تو حد (uniformity) کے اصول کو منطبق کرنا چاہا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page