حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کی یہ کوشش یقینی طور پر غیر فطری تھی، اس بنا پر تو حد کے نام پر کی جانے والی کوشش تشدد کا ذریعہ بن گئی، اور آخر کار امت واحدہ، امت متفرقہ میں تبدیل ہو کر رہ گئی۔ اس واقعے کی ذمے داری ساری کی ساری فقہائے متقدمین پر ہے۔ اس صورتِ حال کی اصلاح صرف اس وقت ہو سکتی ہے، جب کہ فقہائے متقدمین کے بارے میں یہ مانا جائے کہ انھوں نے بطورِ خود اختلافی مسائل کے حل کے لیے جو طریقہ اختیار کیا وہ ان کی ایک اجتہادی غلطی تھی، اور اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اس غلط روش کو ترک کر دیا جائے۔ موافقت، مخالفت میری پسندیدہ تفسیروں میں سے ایک خاص تفسیر الجامع لاحکام القرآن ہے۔ یہ تفسیر اسپین (قرطبہ) میں لکھی گئی۔ اس کے مولف ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابی بکر بن فرح الانصاری (وفات 671 ھ) ہیں۔ وہ قرطبہ کے ایک بڑے عالم تھے۔ اسی لیے وہ القرطبی کے نام سے مشہور ہیں۔ القرطبی کا فقہی مسلک مالکی تھا۔ مگر اپنی بے تعصبی کی بنا پر انہوں نے کئی جگہ امام مالک کے مسلک سے اختلاف کیا ہے۔ مثال کے طور پر امام مالک نماز میں بچے کی امامت کو ناجائز بتاتے ہیں۔ مگر القرطبی اس سے اختلاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بچہ کا نماز میں امام بننا جائز ہے جب کہ وہ قرآن کی قرآت کرنا جانتا ہو : إِمَامَةُ الصَّغِیرِ جَائِزَةٌ إِذَا كَانَ قَارِئًا (تفسیر القرطبی، جلد 1، صفحہ 353)۔ اسی طرح امام مالک کا مسلک یہ ہے کہ رمضان میں روزہ رکھنے والا ایک شخص اگر بھول کر کھا لے تو اس کو قضا کا روزہ رکھنا ہوگا۔ مگر القرطبی اس راۓ کو رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امام مالک کے سوا دوسرے فقہا کے نزدیک بھول کر کھانے والے کے اوپر روزہ کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader