Urdu book · حکمتِ اسلام

اسلام اور مغربی تہذیب

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

اس وقت ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبہ میں مسلمانوں کی حکومتیں قائم تھیں ۔ مغربی تہذیب کے سیاسی مارچ نے ان مسلم حکومتوں کا خاتمہ کر کے ان کے اوپر اپنا غلبہ قائم کر دیا۔ انیسویں صدی کے مسلم علماء اور دانشور مغربی تہذیب اور اس کے سیاسی پہلو میں فرق نہ کر سکے ۔ مغربی سیاست کو ایک غیر مطلوب چیز سمجھنے کے ساتھ انہوں نے یہ کیا کہ خود مغربی تہذیب کو بھی ایک غیر مطلوب چیز سمجھ لیا۔ انگریز سے متنفر ہونے کے ساتھ وہ انگریزی سے بھی متنفر ہو گئے ۔ ابتدائی طور پر دو چیزوں کے درمیان یہی عدم تمیز تھی جس نے مغربی تہذیب کے خلاف مسلمانوں میں نفرت پیدا کر دی ۔ مگر بعد کو خود مغربی تہذیب میں کچھ مزید برائیاں پیدا ہوئیں ۔ یہ برائیاں اگر چہ اضافی تھیں مگر وہ اسلامی مزاج کے سراسر خلاف تھیں ۔ اس لیے مغربی تہذیب کے معاملہ میں مسلم علماء اور دانشوروں کے منفی ذہن میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔ اس معاملہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ مغربی تہذیب نے مسیحی مذہب کے خلاف رد عمل میں آزادی کے تصور کو اتنا زیادہ بڑھایا کہ اس کو خیر مطلق (summum bonum) کا درجہ دے دیا۔ انسانی آزادی کے نام پر مذہبی قدروں کی وسیع پیمانہ پر پامالی شروع ہو گئی۔ اس کی آخری حد وہ مجرمانہ عریانیت (criminal pornography) ہے جو اب شرمناک حد تک غیر انسانی صورت اختیار کر چکی ہے۔ تاہم ان تمام منفی پہلوؤں کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ پر قائم ہے کہ مغربی تہذیب نے اسلام اور اسلامی دعوت کے حق میں ایسے نئے امکانات کا دروازہ کھولا ہے جو اس سے پہلے کبھی موجود نہ تھے ۔ مسلمان اگر خذ ما صفا، دع ما کدر کے اصول کے مطابق یہ کریں کہ وہ مغرب کے برے پہلوؤں کو نظر انداز کریں اور اس کے موافق پہلوؤں کو لے لیں تو بلاشبہ مغربی تہذیب ان کے لیے ایک عظیم نعمت ثابت ہو سکتی ہے۔ اساساتِ اسلام، تائیداتِ اسلام اصل یہ ہے کہ وسیع تر معنوں میں اسلام کے دو پہلو ہیں اساساتِ اسلام، اور تائیداتِ اسلام۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page