اسلام اور مغربی تہذیب
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
اور دوسرے پہلو کا تعلق اُن مسلم علماء اور دانشوروں سے ہے جنہوں نے اس کو غیر اسلامی قرار دے کر مطلق طور پر اس کی مخالفت شروع کر دی ۔ مغربی تہذیب کا آغاز مغربی تہذیب کا آغاز زیادہ واضح صورت میں سولھویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اُس وقت یہ تہذیب فطرت کے قوانین یا فطرت میں چھپی ہوئی طاقتوں کی دریافت کے ہم معنی تھی۔ مگر یہ ایک اتفاقی بات تھی کہ اپنے ابتدائی زمانہ میں مغربی تہذیب کے بانی سائنسدانوں نے عالم فطرت کے جو حقائق دریافت کیے وہ زوال یافتہ مسیحیت کے مزعومہ عقائد سے ٹکراتے تھے۔ مسیحیت کے پیشوا چونکہ اس وقت اقتدار کی حالت میں تھے، انہوں نے ان سائنس دانوں کی سخت مخالفت کی اور انہیں سخت سزائیں دیں۔ ان سزاؤں کی تفصیل ڈریپر کی مشہور کتاب (Conflict between Science and Religion) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ ٹکراؤ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اہل سائنس اور اہل مذہب کے درمیان تھا۔ مگر غلط طور پر اس کو سائنس اور مذہب کا ٹکراؤ سمجھ لیا گیا۔ اُس وقت جذباتی ہیجان کی بنا پر اس فرق کو سمجھا نہ جا سکا اور مغربی تہذیب غلط طور پر اپنے آغاز ہی میں عملاً ایک مخالف مذہب کی حیثیت اختیار کر گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی تہذیب کے لوگ مذہب کو اپنا حریف سمجھنے لگے اور اہل مذہب نے مغربی تہذیب کو اپنا دشمن فرض کر لیا۔ یہ منفی ذہن ابتداء مسیحیت کے مقابلہ میں پیدا ہوا۔ اس کے بعد وہ توسیع پا کر دوسرے مذاہب تک پہنچ گیا۔ موجودہ زمانہ میں تقریباً تمام مسلم علماء اور دانشوروں کا رخ مغربی تہذیب کے معاملہ میں منفی رہا۔ اس کا سبب بھی حقیقی کے بجائے اضافی ہے۔ قصہ یہ ہے کہ انیسویں صدی میں جب یہ مغربی تہذیب اپنے عروج تک پہنچ کر مسلم دنیا میں داخل ہوئی تو یہ داخلہ صرف ایک تہذیبی داخلہ نہ تھا بلکہ وہ سیاست اور ملک گیری کے جلو میں ہوا جس کو نو آبادیاتی نظام (colonialism) کہا جاتا ہے۔ مغربی تہذیب کے اس سیاسی مارچ کی زد سب سے زیادہ جن لوگوں پر پڑی وہ مسلمان تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader