Urdu book · حکمتِ اسلام

اسلام اور مغربی تہذیب

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

اساساتِ اسلام سے مراد اسلام کی وہ بنیادی تعلیمات ہیں جن کا ماخذ وحی الہی ہے، یعنی عقائد، عبادات، اخلاقیات، اور روحانیات وغیرہ۔ اسلام کا یہ پہلو پیغمبر اسلام کے زمانہ میں آخری طور پر مکمل ہو چکا ہے۔ اس کو جاننے کے لیے قرآن اور حدیث اور سیرت کا مطالعہ بالکل کافی ہے۔ اس حصہ اسلام میں اگر کوئی مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے تو وہ اصحاب رسول کی سنت کا اضافہ ہے۔ اس کے بعد اس حصہ اسلام میں کوئی اور اضافہ بدعت ہے، اور اسلام میں بدعت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام کا دوسرا حصہ جس کو ہم نے تائیداتِ اسلام کا نام دیا ہے اس کی نوعیت بالکل الگ ہے۔ یہ حصہ اتنا زیادہ وسیع ہے کہ اس میں غیر مومنین اور غیر مخلصین بھی مفید حصہ ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان اللہ ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری) یعنی اللہ اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعہ بھی کرے گا۔ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو عظیم انقلاب برپا ہوا اس کے کچھ اجزاء ایسے تھے جو مستقبل میں تکمیل پانے والے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ انقلاب محمدی نے انسانی تاریخ میں ایک عمل (process) جاری کیا۔ یہ عمل مختلف نشیب و فراز کے ساتھ مستقل جاری رہا۔ مغربی تہذیب اپنے سائنسی پہلو کے اعتبار سے اسی انقلابی عمل کا گویا ایک نقطہ عروج (culmination) ہے۔ اس اعتبار سے اسلام کے حق میں جو مفید اسباب پیدا ہوئے ان کو چار عنوانات کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے۔ یہ چار عنوانات یہ ہیں_ حفاظت اسلام، دلائل اسلام، دعوت اسلام، شعورِ اسلام۔ حفاظت اسلام قرآن آخری آسمانی کتاب ہے۔ اس کے بعد اب خدا کی طرف سے کوئی اور کتاب آنے والی نہیں۔ اس لیے ضروری تھا کہ اس کتاب کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا جائے ۔ اس منصوبہ الہی کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ انا نحن نزلنا الذكر و انا له لحافظون (الحجر ۹) یعنی ہم نے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page