Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے مگر وہ خود سماج کو دینا نہیں چاہتا۔ اس قسم کی خود غرضی کبھی کسی کے لیے مفید نہیں ہو سکتی ، نہ فرد کے لیے اور نہ قوم کے لیے۔ اس دنیا میں کامیابی صرف وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جو کھلا دل رکھتے ہوں۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جتنا بڑا دل اتنی بڑی کامیابی ۔ بڑے دل والا آدمی اس بات کا حوصلہ رکھتا ہے کہ وہ دوسروں کی رعایت کرے۔ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچا کر خوش ہو۔ وہ شکایت کے باوجود دوسروں کے ساتھ بہتر معاملہ کرے۔ وہ معاملات کو بلند سطح سے دیکھے۔ جس آدمی کے اندر یہ اعلیٰ صفات ہوں وہ لوگوں کے درمیان با عزت درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ اور جو آدمی دوسروں کے درمیان با عزت درجہ حاصل کرلے اُس کی کامیابی کو کوئی روکنے والا نہیں۔ ایثارِ نفس قرآن کی سورہ نمبر ۵۹ میں اعلیٰ انسانوں کی صفات بتائی گئی ہیں۔ ان اعلیٰ صفات میں سے ایک صفت ایثارِ نفس ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے: ”اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر مقدم رکھتے ہیں۔ اگر چہ اُن کے اوپر فاقہ ہو“(الحشر ٩) ایثارِ نفس ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ ایثارِ نفس کا مطلب ہے، اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا۔ اپنے حق میں کمی کر کے دوسرے کا حق پورا کرنا۔ یہ صفت ایک فرد کے لیے اعلیٰ انسانیت کا مظاہرہ ہے، اور سماجی اعتبار سے وہ سماج کی مجموعی ترقی کا ضامن ہے۔ انسانیت کی مجموعی ترقی کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی صفت ہے۔ جس سماج کے افراد میں یہ مزاج ہو کہ وہ اپنے آپ کو بھلا کر دوسرے کی مدد کریں۔ وہ اپنی سیٹ کو خالی کر کے دوسرے کو بیٹھنے کی جگہ دیں۔ وہ دوسرے کی خوبی کا اعتراف کر کے اُس کو آگے بڑھائیں تو ایسے سماج میں مجموعی ترقی کا عمل کامیابی کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ جس سماج میں یہ صفت ہو اُس میں آپس کی محبت بڑھے گی ۔ لوگ ایک دوسرے کے لیے قربانی دینے پر تیار رہیں گے ۔ سماج کے لوگوں میں حسد اور بغض اور خود غرضی جیسی برائیوں کی جڑ کٹ جائے گی ۔ ایسے سماج میں اعلیٰ اخلاقی اوصاف پرورش پائیں گے ۔ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page