اسلام اور مغربی تہذیب
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ خدا کے قانون کے مطابق ، اس حفاظت کا نظام اسباب کے دائرہ میں کرنا تھا۔ چنانچہ ظہور اسلام کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک اس کی حفاظت اس طرح کی جاتی رہی کہ قرآن کا ایک ایک نسخہ لوگ اپنے ہاتھ سے لکھتے رہے اور اسی کے ساتھ حافظہ کی مدد سے اس کو یاد کرتے رہے ۔ اس طرح کتابت اور حفظ کے ذریعہ اس کو محفوظ حالت میں رکھا جاتا رہا۔ مگر موجودہ زمانہ میں پریس اور پرنٹنگ کے طریقہ نے قرآن کو زیادہ مستحکم طور پر محفوظ کر دیا ہے۔ یہ جدید ذرائع تمام تر مغربی تہذیب کے زیر اثر ظہور میں آئے ہیں۔ اسی طرح ظہور اسلام کے بعد ہزار سالہ ابتدائی تاریخ میں کثیر تعداد میں اسلامی موضوعات پر کتابیں لکھی گئیں ۔ حدیث ، سیرت، تاریخ، فقہ، اور دوسرے اسلامی علوم پر عربی زبان میں بہت بڑی تعداد میں کتابیں لکھی گئیں ۔ یہ کتابیں اسلام کے کلاسیکل لٹریچر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر یہ تمام کتابیں مخطوطات کی شکل میں تھیں ۔ ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخے مختلف اسلامی کتب خانوں کی الماریوں میں محفوظ تھے۔ قدیم زمانہ میں یہ کتابیں صرف مخصوص علماء کی دسترس تک محدود تھیں۔ آج وہ ساری دنیا میں ہر شخص کے لیے قابل حصول ہوگئی ہیں۔ ان کتابوں کی یہ عمومی اشاعت کیسے ممکن ہوئی۔ یہ واقعہ پرنٹنگ پریس کے ذریعہ ہوا۔ مغربی تہذیب کے علمداروں نے پرنٹنگ پریس تیار کیا۔ انہوں نے اعلیٰ قسم کے کاغذ بنائے اور دوسری متعلق چیزیں ایجاد کیں ۔ اس طرح یہ قیمتی کتابیں چھپ کر اور مجلد ہو کر ساری دنیا میں پھیل گئیں۔ اسی طرح مغربی تہذیب کے زیر اثر ایک اہم واقعہ یہ ہوا کہ تمام قدیم کتابوں اور دستاویزات کی سائنٹفک تحقیق شروع ہوگئی ۔ یہ ذوق تو وسیع پا کر مذاہب کی مقدس کتابوں تک پہنچ گیا۔ یہاں تک کہ اس کے لیے ایک مستقل فن وجود میں آیا جس کو تنقید عالیہ (higher criticism) کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader