حکمتِ حدیث
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
نے کے بعد اس کو بہر حال قرض دینے والے کو یہ حق دینا ہوگا کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار جس طرح رہنا چاہتا ہے کرے ۔ اس طرح کے معاملہ میں قرض لینے والے کو تحمل کی روش اختیار کرنا چاہئے ۔ وہ مان نہیں سکتا کہ برعکس طور پر وہ قرض دینے والے کو تحمل کی نصیحت کرے ۔ 076 ــ حق سے زیادہ نہ لینا پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ دو آدمی اگر میرے پاس ایک زمین کا مقدمہ لے کر آئیں ۔ ان میں سے ایک شخص زیادہ ہوشیاری کے ساتھ اگر اپنا مقدمہ پیش کرے اور اس کی وجہ سے زمین اس کو دے دی جائے ، جب کہ حقیقت میں وہ زمین اس کی نہ ہو تو گویا کہ اس کو آگ کا ایک ٹکڑا دیا گیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز آدمی کا واقعی حق نہ ہو، اس کے معاملہ میں اگر وہ کسی تدبیر سے اپنے لافق عدالتی فیصلہ لے لے تب بھی وہ چیز اس کی نہ ہوگی ۔ کوئی عدالتی فیصلہ حقیقت کو نہیں بدل سکتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز پر ناجائز قبضہ ہر حال میں برا ہے ۔ عدالت کا کوئی فیصلہ نا جائز کو جائز میں بنا سکتا۔ اگر آدمی کا ضمیر یہ کہتا ہو کہ فلاں چیز میری نہیں ہے تو ایسی حالت میں اس کے لیے صحیح رقیہ یہ ہے کہ وہ اس چیز کو حق دار کے حوالہ کر دے ، نہ کہ غلط تدبیر کے ذریعہ نا جائز طور پر دوسرے کی بز پر قابض ہونے کی کوشش کرے۔ ضمیر سب سے بڑی عدالت ہے ۔ سب سے بڑا فیصلہ وہ ہے جو میر کی عدالت سے جاری کیا جائے ۔ 077 ــ جو اپنے لیے وہی دوسروں کے لیے پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ مومن وہ ہے جو دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔ یہ سماجی اخلاق کا ایک نہایت جامع اصول ہے ۔ ہر آدمی یہ جانتا ہے کہ دوسروں کی رف سے کون سا رویہ اس کو پسند ہے اور کون سا رویہ ناپسند ۔ ایسا ہی وہ دوسروں کے ساتھ کرنے لگے ۔ وہ دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو سلوک وہ اپنے لیے چاہتا ہے اور دوسروں کے ساتھ س سلوک سے بچے جس کو وہ اپنے لیے پسند نہیں کرتا۔ سماجی اخلاق کا یہ اصول اتنا سادہ اور فطری ہے کہ وہ ہر عورت اور ہر مرد کو معلوم ہے ۔ ضرورت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader