Urdu book · حکمتِ اسلام

دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

دارالاسلام اور دارالکفر اور دارالحرب کی اصطلاحات بطور خود وضع کرنے کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، یہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو عالمی طرز فکر (world view) سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ مسلمانوں کے ذہنی رخ کو متعین کرتا ہے۔ وہ مسلمانوں کی پوری سوچ کی تشکیل کرنے والا ہے۔ وہ مسلمانوں کے اندر شعب اللہ المختار (chosen people) کا ذہن بناتا ہے۔ یہ ذہن کسی قوم کے تنزل کی علامت ہے، اور جیسا کہ معلوم ہے، یہ ذہن یہودیوں میں اس وقت پیدا ہوا جب کہ وہ تنزل کا شکار ہو چکے تھے۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا انسانی معاشروں کو دارالاسلام اور دارالکفر اور دارالحرب میں تقسیم کر کے نہیں دیکھتا۔ خدا تمام انسانوں کو ایک نظر سے دیکھتا ہے اور ایک ہی اصول کی روشنی میں وہ تمام انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے والا ہے۔ چنانچہ قرآن میں مسلمانوں کے اس ذہن کی سختی سے تردید کی گئی ہے کہ وہ دوسروں کے مقابلہ میں خدا کے زیادہ محبوب بندے ہیں۔ (المائدہ ۱۸) قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا کے یہاں کسی شخص کی قدر و قیمت نسلی تعلق سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس کے ذاتی عمل سے متعین ہوتی ہے (النجم ۳۹) قرآن میں مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ بریکیٹ کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے: ليس بأمانيكم ولا أماني أهل الكتاب من يعمل سوءا يجز به (النساء ۱۲۳) یعنی نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو کوئی بھی برا کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ گروہی فضیلت یا گروہی نجات کا تصور قرآن میں ایک اجنبی تصور ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت کا مطالعہ کافی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: بے شک جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی، ان میں سے جو کوئی ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور اس نے نیک کام کیا تو اس کے لیے اس کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور ان کے لیے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے (البقرہ ۶۲) یعنی مسلم گروہ، مسیحی گروہ، یہودی گروہ سب گروہی اعتبار سے خدا کے نزدیک یکساں ہیں۔ خدا کی عدالت میں کامیابی کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page