دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
فقہاء نے دار کی جو تقسیم کی اس نے تاریخ بشری کے بارے میں ایک نیا نقطۂ نظر پیدا کیا۔ اس کے مطابق ، سارا معاملہ مسلم ورسز نان مسلم کا معاملہ بن گیا۔ مگر قرآن کے مطابق ، یہ معاملہ خدا و درس انسان کا معاملہ ہے۔ بعد کے زمانہ میں دار کی نسبت سے بننے والی اس غلط تقسیم نے مسلمانوں کے طرز فکر کو نہایت گہرے طور پر متاثر کیا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے بعد بننے والی پوری مسلم تاریخ میں جو کتابیں لکھی گئیں وہ تقریباً سب کی سب مسلم اور یونینڈ سوچ کے تحت لکھی گئیں۔ سید رشید رضا کی کتاب لما ذا تأخر المسلمون و تقدم غیر ھم اور سید ابوالحسن علی ندوی کی کتاب ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین کے ٹائٹل اسی طرز فکر کی عکاسی کرتے ہیں۔ میرے علم کے مطابق ، ہزار سال کی مسلم تاریخ میں عبد الرحمن ابن خلدون کی کتاب (مقدمہ ابن خلدون ) کو چھوڑ کر غالباً کوئی بھی کتاب ایسی نہیں جو حقیقی معنوں میں انسان اور یونینڈ سوچ کے تحت لکھی گئی ہو۔ اس مدت میں غیر مسلموں کو آئیڈریس کرنے کے لیے جو کتابیں لکھی گئیں وہ سب مناظرہ کے اصول پر لکھی گئیں۔ مثال کے طور پر ابن تیمیہ کی کتاب ”الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح“ اور مولا نا قاسم نانوتوی کی کتاب اظہار الحق ، وغیرہ۔ بعد کے زمانہ میں لکھی جانے والی کتابوں کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ انسانیت عامہ مسلمانوں کا کونسرن ہی نہیں۔ بعد کے زمانہ میں قرآن اور حدیث کی جو شرحیں لکھی گئیں وہ بھی بعد کو پیدا ہونے والی اس فکر سے متاثر نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں خیر امت ( آل عمران (۱۱۰) کا لفظ آیا ہے۔ بعد کی تفسیروں میں اس لفظ کو مسلم کمیونٹی کا گروہی لقب سمجھ لیا گیا۔ چنانچہ یہ کہا جانے لگا کہ مسلمان خیر الامم ہیں ؛ انھم خیر الامم (ابن کثیر، ۱/ ۳۹۱) اسی بات کو حالی نے اس طرح نظم کیا ہے: وہ امت ، لقب جس کا خیر الامم تھا حالاں کہ قرآن کی اس آیت میں خیر امت سے مراد کوئی نسلی گروہ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد صفاتی گروہ ہے۔ اس آیت میں ”خیر“ کی بشارت ان افراد کو دی گئی ہے جو اس کی مطلوب صفات سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader