دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
متصف ہوں ۔ چنانچہ عمر فاروق نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: من فعل فعلہم کان مثلہم (القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ۳ / ۱۷۰) یعنی جو ان کے جیسا عمل کرے گا وہ ان کے مانند ہوگا۔ گویا خیر امت کا مدار کردار پر ہے، نہ کہ کسی نسلی گروہ پر۔ اسی طرح سورہ الفاتحہ میں الضالین اور المغضوب علیہم کا مصداق عیسائیوں اور یہودیوں کو قرار دے دیا گیا۔ حالاں کہ یہ شخصی کردار کی بات ہے اور اس کا تعلق تمام انسانوں بشمول مسلمانوں سے ہے، نہ کہ کسی مخصوص مذہبی گروہ سے۔ حدیث کی شرحوں میں بھی اس کا اثر پوری طرح دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر روایات میں آیا ہے کہ مدینہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا۔ آپ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ جنازہ کو دیکھ کر آپ کھڑے ہوگئے۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ نے فرمایا کہ: ألیست نفساً۔ یعنی کیا وہ انسان نہیں: Was he not a human being. یہ واقعہ صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب من قام لجنازۃ یہودی کے تحت آیا ہے۔ پیغمبر اسلام کا یہ عمل واضح طور پر بتاتا ہے کہ ہر انسان عزت اور احترام کے قابل ہے، خواہ اس کا مذہب کچھ بھی ہو۔ اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا یہ طریقہ ہے کہ ہر انسان کو اپنے جیسا انسان سمجھو۔ انسان کو دیکھ کر یہ یاد کرو کہ جس خدا نے مجھ کو پیدا کیا ہے اسی خدا نے اس دوسرے انسان کو بھی پیدا کیا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ انسان کو دیکھ کر خدا کے تخلیقی کرشموں کو یاد کرے ۔ کسی انسان کا مشاہدہ اس کے لیے خدا سے تعارف کا ذریعہ بن جائے۔ یہ روایت بلاشبہ احترام انسانیت کے بارہ میں پیغمبر اسلام کی سنت کو بتاتی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ حدیث کے شارحین میں سے کسی کو اس واقعہ میں احترام انسانیت کا سبق نہیں ملا۔ اس کے برعکس لوگوں نے اس سنت رسول کی تشریح میں عجیب وغریب باتیں لکھی ہیں۔ مثلاً کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ قیام واجب نہیں۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ آپ موت کی فزع کو یاد کر کے کھڑے ہوگئے ۔ کچھ لوگوں کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader