مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 320
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مثال احکام میں زمانی رعایت کی ایک مثال مؤلفة القلوب (التوبہ ۲۰) ہے۔ یہ امر متفق علیہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بہت سے لوگوں کو تالیف قلب کے لیے وظیفے اور عطیے دئے گئے۔ لیکن اس بات میں اختلاف ہے کہ آپ کے بعد صدقات کی یہ مد باقی ہے یا نہیں ۔ اکثر فقہاء اس مد کو کسی نہ کسی طور پر باقی مانتے ہیں مگر فقہائے احناف کے نزدیک اب یہ مد ساقط ہو چکی ہے، اب مؤلفة القلوب کو اس سلسلہ میں کچھ دینا جائز نہیں۔ حنفیہ کا استدلال اس واقعہ سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور انہوں نے ایک زمین آپ سے طلب کی۔ آپ نے ان کو عطیہ کا فرمان لکھ دیا۔ انہوں نے چاہا کہ مزید پختگی کے لیے دوسرے صحابہ کی تصدیق بھی اس فرمان پر حاصل کر لیں۔ اس مقصد کے لیے یہ لوگ حضرت عمر فاروق کے پاس گئے۔ انہوں نے اس فرمان کو پڑھ کر اسے ان کی آنکھوں کے سامنے چاک کر دیا اور ان سے کہا کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی تالیف قلب کے لیے تمہیں دیا کرتے تھے مگر وہ اسلام کی کمزوری کا زمانہ تھا۔ اب اللہ نے اسلام کو تم جیسے لوگوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ اس پر وہ لوگ خلیفہ ابو بکر صدیق کے پاس شکایت لے کر آئے اور کہا کہ خلیفہ آپ ہیں یا عمر ۔ لیکن نہ تو ابو بکر صدیق نے اس پر کوئی نوٹس لیا اور نہ دوسرے صحابہ میں سے ہی کسی نے حضرت عمر کی اس رائے سے اختلاف کیا۔ اس سے حنفیہ یہ دلیل لاتے ہیں کہ جب مسلمان کثیر التعداد ہو گئے اور ان کو یہ طاقت حاصل ہو گئی کہ اپنے بل بوتے پر کھڑے ہو سکیں تو وہ سبب باقی نہیں رہا جس کی وجہ سے ابتداء مولفة القلوب کا حصہ رکھا گیا تھا، اس لیے باجماع صحابہ یہ حصہ ہمیشہ کے لیے ساقط ہو گیا ہے۔ (قاضی محمد ثناء الله العثمانی، التفسير المظهري، المجلد الرابع، صفحه (۲۳۴-۲۳۶ حنفیہ کا یہ مسلک واضح طور پر زمانی تاثر کا نتیجہ ہے۔ حنفی فقہ چون کہ ایسے زمانہ میں مرتب ہوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader