مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 321
By Maulana Wahiduddin Khan
جب کہ اسلام غالب حالت پر تھا۔ اس لیے بظاہر تالیفِ قلب کی ضرورت پائی نہیں جاتی تھی۔ اس وقت صورتِ حال کی بنا پر انہوں نے اپنا مذکورہ مسلک بنایا۔ مگر اب دوبارہ حالات بدل چکے ہیں۔ چنانچہ متعدد علماء نے صراحت کی ہے کہ قرآن کے دوسرے احکام کی طرح یہ حکم بھی دائمی ہے اور وہ اب بھی مطلوب ہے۔ ارتداد کے سلسلے میں جو لوگ فقہ سے استدلال کرتے ہیں کہ اس کی سزا قتل ہے، اس کی نوعیت بھی کچھ اسی قسم کی ہے۔ موجودہ فقہ اس وقت مدون ہوئی جب کہ اسلام ایک سیاسی نظام کی حیثیت سے بالفعل ایک با اقتدار طاقت بن چکا تھا۔ اس وقت ارتداد کے معنیٰ سادہ طور پر صرف اسلامی عقیدہ بدلنے کے نہیں تھے بلکہ ارتداد کے بیشتر واقعات سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کے ہم معنیٰ بن گئے تھے۔ اس وقت کے حالات کے اعتبار سے ارتداد عموماً بغاوت کے ہم معنیٰ ہوا کرتا تھا۔ یہ تھا وہ پس منظر جس میں وہ فقہی احکام مرتب ہوئے جو آج ہمیں کتابوں کے اندر لکھے ہوئے ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملہ میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ جن لوگوں نے ارتداد کو وقت کے عملی اور عمومی مسئلہ کی روشنی میں ریاست سے بغاوت کے معنیٰ میں لیا، انہوں نے اس کی سزا قتل قرار دی۔ کیوں کہ ریاست سے بغاوت کی سزا بلاشبہ یہی ہے۔ اور جن لوگوں نے ارتداد کو محض تبدیلی مذہب کے عقیدہ کے معنیٰ میں لیا، انہوں نے طلبِ توبہ کے سوا کسی اور کارروائی کی ضرورت نہیں سمجھی۔ قرآن کی روشنی میں اس مسئلہ پر جب ہم قرآن کی روشنی میں غور کرنا شروع کرتے ہیں تو سب سے پہلے حسب ذیل آیت ہمارے سامنے آتی ہے: لا اکراہ فی الدین، قد تبین الرشد من الغی، فمن یکفر بالطاغوت ويؤمن بالله فقد استمسك بالعروة الوثقى لا انفكام لها، والله سميع عليم (البقرۃ : ۲۵۶) یعنی دین کے معاملہ میں زبردستی نہیں۔ بے شک ہدایت کا راستہ اور گمراہی کا راستہ واضح ہو چکا ہے۔ اب جو طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے بڑا مضبوط حلقہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader