مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 322
By Maulana Wahiduddin Khan
پکڑ لیا جس کو ٹوٹنا نہیں، اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ یہ آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ اسلام میں مذہبی جبر کا حکم نہیں۔ اکراہ کے معنی عربی زبان میں مجبور کرنے کے آتے ہیں۔ قرآن میں ہے ۔۔ الا من اکره و قلبه مطمئن بالایمان (النحل ۱۰۶) اب اگر مجرد ارتداد کی سزا قتل قرار دی جائے جو واضح طور پر اکراہ کی صورت ہے تو یہ اس آیت سے ٹکرا جائے گی۔ مجرد ارتداد کی سزا قتل کو قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ زبردستی لوگوں کو مسلمان بنا کر رکھا جائے اور اگر وہ اس کے لیے راضی نہ ہوں تو ان کو قتل کر دیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ یہ نظریہ مذکورہ قرآنی آیت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کیوں کہ قرآن میں واضح طور پر یہ اعلان کیا گیا ہے: فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر (الكهف (۲۹) اور یہ کہ: لست عليهم بمصيطر (الغاشية (۲۲) یعنی اسلام کی بنیاد پر امن فہمائش پر ہے نہ کہ زور زبردستی پر۔ اسی طرح ایک آیت میں کہا گیا ہے: ولو شاء ربك لآمن من في الأرض كلهم جميعا أفانت تكره الناس حتى يكونوا مؤمنين (یونس (۹۹) اگر تمہارا رب چاہتا تو بلا شبہ یہ زمین کے سارے لوگ ایمان لاتے اب کیا تم زبردستی کرو گے کہ لوگ مسلمان ہو جائیں۔ ان قرآنی آیتوں سے اصولی طور پر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ دین کے معاملہ میں زبردستی نہیں رکھی گئی ہے۔ تاہم ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ آیتیں ان لوگوں کے بارہ میں ہیں جو ابھی ایمان نہیں لائے ہیں۔ ایک بار ایمان قبول کرنے کے بعد صورت حال بدل جاتی ہے۔ مگر قرآن اس بارہ میں خاموش نہیں۔ متعدد آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو دین میں داخل ہونے کے بعد دوبارہ اپنے دین کو بدل لیں۔ مگر کہیں بھی ان کو قتل کا مستوجب قرار نہیں دیا گیا ہے۔ چند آیتیں ملاحظہ ہوں: ومن يتبدل الكفر بالايمان فقد ضل سواء السبيل (البقره (۱۰۸) اور جس شخص نے ایمان کو کفر سے بدل لیا تو یقیناً وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔ يا ايها الذين آمنوا من يرتد منكم عن دينه فسوف ياتي الله بقوم يحبهم و يحبونه اذلة على المؤمنين اعزة على الكافرين يجاهدون فى سبيل الله ولا يخافون

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader